حدیث نمبر: 1214
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا فائد أبو الوَرْقاء العطّار، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: خرج علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقعد فقال: "مَن كانت له حاجةٌ إلى الله أو إلى أحدٍ من بني آدم، فليتوضأ وليُحسِنْ وُضوءَه، ثم ليصلِّ ركعتين، ثم يُثْني على الله، ويصلي على النبي ﷺ، وليقل: لا إله إلّا الله الحليمُ الكريم، سبحان الله ربِّ العرش العظيم، الحمد لله ربِّ العالمين، أسألك عزائمَ مغفرتِك، والعِصمةَ من كل ذَنْب، والسَّلامةَ من كل إثم" (2). فائد بن عبد الرحمن أبو الوَرْقاء كوفيٌّ عِدَاده في التابعين، وقد رأيتُ جماعةً من أعقابه، وهو مستقيم الحديث، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا عنه، وإنما جعلتُ حديثه هذا شاهدًا لما تقدم.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ کر فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی حاجت ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے اور کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں جو نہایت بردبار اور کریم ہے، پاک ہے وہ اللہ جو عرشِ عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، میں تجھ سے تیری مغفرت کے اسباب، ہر گناہ سے بچاؤ اور ہر برائی سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔““
فائدہ بن عبدالرحمن ابوالورقاء کوفی ہیں جن کا شمار تابعین میں ہوتا ہے، وہ مستقیم الحدیث ہیں مگر شیخین نے ان سے روایت نہیں کی، میں نے ان کی اس حدیث کو سابقہ روایات کے لیے بطورِ شاہد ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، فائد أبو الورقاء العطار» [ترقيم الرساله 1214] [ترقيم الشركة 1203]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا، فائد أبو الورقاء العطار - وهو فائد بن عبد الرحمن - متروك الحديث، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: (2) یہ سند "انتہائی ضعیف" ہے؛ فائد ابو الورقاء "متروک الحدیث" ہے، علامہ ذہبی نے بھی یہی علت بیان کی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1384)، والترمذي (479) من طريقين عن فائد بن عبد الرحمن أبي الورقاء، بهذا الإسناد. قال الترمذي: هذا حديث غريب، وفي إسناده مقال، فائد بن عبد الرحمن يضعف في الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1384) اور ترمذی (479) نے فائد بن عبدالرحمن کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے غریب اور فائد کو ضعیف کہا ہے۔
لكن صح نحو قوله: "لا إله إلّا الله الحليمُ الكريم، سبحان الله ربِّ العرش العظيم، الحمد لله ربِّ العالمين" أنه دعاء الكرب من حديث ابن عباس عند البخاري (3645)، ومسلم (2730)، ومن حديث علي بن أبي طالب، وسيأتي برقم (1894).
متابعات و شواہد: البتہ اس دعا کے ابتدائی کلمات (لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم...) "دعائے کرب" (پریشانی کی دعا) کے طور پر بخاری (3645) اور مسلم میں حضرت ابن عباس سے صحیح ثابت ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1214 سے ماخوذ ہے۔