کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: خطبے میں سورۃ ص کی تلاوت اور اس میں سجدہ کرنے کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا أبي وشعيب، قالا: حدثنا الليث، حدثنا خالد بن يزيد، عن ابن أبي هلال، عن عياض بن عبد الله، عن أبي سعيد أنه قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ يومًا فقرأ ﴿ص﴾، فلما مَرَّ بالسَّجدة نزل فَسَجَدَ وسَجدْنا، وقرأها مرةً أخرى، فلما مرَّ بالسَّجدة تَبَشَّرْنا للسجود، فلما رآنا قال: "إنما هي توبةُ نبيٍّ، ولكنِّي أراكم قد استعدَدتُم للسُّجود"، فنزل فسَجَدَ وسجدنا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما السجود في: ﴿ص﴾ فقد أخرجه البخاري (2)، وإنما الغرض في إخراجه هكذا في كتاب الجمعة أنَّ الإمام إذا قرأ السجدةَ يوم الجمعة على المنبر فمن السُّنة أن ينزل فيسجد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1052 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فأما السجود في: ﴿ص﴾ فقد أخرجه البخاري (2)، وإنما الغرض في إخراجه هكذا في كتاب الجمعة أنَّ الإمام إذا قرأ السجدةَ يوم الجمعة على المنبر فمن السُّنة أن ينزل فيسجد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1052 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور سورہ ﴿ص﴾ کی تلاوت فرمائی، جب سجدے (والی آیت) پر پہنچے تو آپ ﷺ نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک بار دوبارہ اسے پڑھا، جب سجدے (والی آیت) پر پہنچے تو ہم سجدے کے لیے تیار ہو گئے، جب آپ ﷺ نے ہمیں (تیار) دیکھا تو فرمایا: ”یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو گئے ہو“، پس آپ ﷺ نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سورہ ﴿ص﴾ کا سجدہ امام بخاری نے روایت کیا ہے، یہاں اسے کتاب الجمعہ میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ جب امام منبر پر جمعہ کے دن سجدہ تلاوت پڑھے تو سنت یہ ہے کہ وہ نیچے اتر کر سجدہ کرے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سورہ ﴿ص﴾ کا سجدہ امام بخاری نے روایت کیا ہے، یہاں اسے کتاب الجمعہ میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ جب امام منبر پر جمعہ کے دن سجدہ تلاوت پڑھے تو سنت یہ ہے کہ وہ نیچے اتر کر سجدہ کرے۔
حدثنا حمزة بن العباس العَقَبيّ، حدثنا محمد بن عيسى بن حَيَّان، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا يونس بن أبي إسحاق. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المروَزيُّ -واللفظ له- حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا أبو عمَّار، حدثنا الفَضْل بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق السَّبِيعيِّ، عن المغيرة ابن شِبْل، عن جَرير بن عبد الله قال: لما دَنَوتُ من مدينة رسول الله ﷺ أَنخْتُ راحلتي وحللتُ عَيبَتي، فلبِستُ حُلَّتي، فدخلت ورسولُ الله ﷺ يخطب، فسلَّم عليَّ رسولُ الله ﷺ، فرماني الناسُ بالحَدَق، فقلت لجليسي: يا عبد الله، هل ذَكَرَ رسول الله ﷺ مِن أمري شيئًا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسنِ الذِّكر، قال: "إنَّه سيدخُلُ عليكم مِن هذا الباب -أو من هذا الفَجِّ- مِن خَيرِ ذي يَمَنٍ، وإنَّ على وجهِهِ مَسْحةُ مَلَك"، فحَمَدتُ الله على ما أبلاني (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وهو أصلٌ في كلام الإمام في الخطبة فيما يَبدُو له في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1053 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وهو أصلٌ في كلام الإمام في الخطبة فيما يَبدُو له في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1053 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے شہر (مدینہ) کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری بٹھائی، اپنا سامان کھولا اور اپنا (بہترین) لباس پہنا، پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے مجھے سلام کیا، تو لوگ مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا رسول اللہ ﷺ نے میرے بارے میں کچھ ذکر فرمایا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے تمہارا بہترین الفاظ میں تذکرہ فرمایا ہے اور کہا ہے: ”تمہارے پاس اس دروازے سے -یا اس گھاٹی سے- یمن کا ایک بہترین شخص داخل ہونے والا ہے جس کے چہرے پر فرشتے جیسی چمک ہے“، تو میں نے اس احسان پر اللہ کا شکر ادا کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس بات کی اصل ہے کہ امام خطبہ کے دوران پیش آمدہ حالات پر گفتگو کر سکتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس بات کی اصل ہے کہ امام خطبہ کے دوران پیش آمدہ حالات پر گفتگو کر سکتا ہے۔