کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو، اور جب اقامت کہو تو جلدی کرو، اور اذان و اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو کہ کھانے والا کھا لے اور پینے والا پی لے۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا علي بن حمَّاد بن أبي طالب، حدثنا عبد المنعم بن نُعيم الرِّيَاحي، حدثنا عمرو بن فائد الأُسْواري، حدثنا يحيى بن مسلم، عن الحسن وعطاء، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ قال لبلال: "إذا أذَّنتَ فترسَّلْ في أَذانك، وإذا أقمتَ فاحدُرْ، واجعل بين أَذانِك وإقامتِك قَدْرَ ما يَفْرُغُ الآكلَ من أكله، والشاربُ من شُربِه، والمعتصرُ إذا دخل لقضاءِ حاجَتِه" (1).
هذا حديث ليس في إسناده مطعونٌ فيه غير عمرو بن فائد والباقون شيوخ البصرة، وهذه سُنَّة غريبة لا أعرفُ لها إسنادًا غير هذا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 732 - قال الدارقطني عمرو بن فائد متروك
هذا حديث ليس في إسناده مطعونٌ فيه غير عمرو بن فائد والباقون شيوخ البصرة، وهذه سُنَّة غريبة لا أعرفُ لها إسنادًا غير هذا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 732 - قال الدارقطني عمرو بن فائد متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر کلمات ادا کرو (ترسل)، اور جب اقامت کہو تو روانی سے (جلدی) کہو، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو کہ کھانے والا کھانے سے، پینے والا پینے سے اور قضائے حاجت کے لیے جانے والا اپنی ضرورت سے فارغ ہو سکے۔“
اس حدیث کی سند میں عمرو بن فائد کے علاوہ کوئی مطعون راوی نہیں، یہ ایک نادر سنت ہے جس کی کوئی دوسری سند مجھے معلوم نہیں۔
اس حدیث کی سند میں عمرو بن فائد کے علاوہ کوئی مطعون راوی نہیں، یہ ایک نادر سنت ہے جس کی کوئی دوسری سند مجھے معلوم نہیں۔
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا وَهْب بن جَرِيرٍ. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن الأسَدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو الوليد؛ قالوا: حدثنا شُعْبة، عن أبي بِشْر قال: سمعت أبا المَلِيح يحدِّث عن عبد الله بن عُتْبة، عن أم حَبِيبة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا سَمِعَ المؤذِّنَ، قال كما يقول، حتى يَسكُتَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مؤذن کی آواز سنتے تو ویسے ہی کلمات کہتے جیسے وہ کہتا تھا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو جاتا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔