أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا عبد الله بن داود الخُرَيبي، حدثنا الوليد بن جُمَيع، عن ليلى بنت مالك وعبد الرحمن بن خالد (1) الأنصاري، عن أم وَرَقة الأنصارية، أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول: "انطَلِقوا بنا إلى الشَّهيدة فنَزُورَها"، وأمر أن يُؤذَّنَ لها ويُقامَ وتَؤمَّ أهلَ دارها في الفرائض (2). قد احتجَّ مسلمٌ بالوليد بن جُمَيع، وهذه سُنَّة غريبة لا أعرفُ في الباب حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا، وقد رُوِّينا عن أم المؤمنين عائشة ﵂ أنها كانت تؤذِّن وتقيم وتؤمُّ النساء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 730 - احتج مسلم بالوليد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 730 - احتج مسلم بالوليد
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”ہمارے ساتھ (ام ورقہ) شہیدہ کی زیارت کے لیے چلو،“ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے لیے اذان کہی جائے، اقامت کہی جائے اور وہ اپنے گھر والوں کی فرض نمازوں میں امامت کریں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام مسلم نے ولید بن جمیع سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ایک نادر سنت ہے، اس باب میں اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث مجھے معلوم نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ وہ اذان و اقامت کہتی اور عورتوں کی امامت کرتی تھیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام مسلم نے ولید بن جمیع سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ایک نادر سنت ہے، اس باب میں اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث مجھے معلوم نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ وہ اذان و اقامت کہتی اور عورتوں کی امامت کرتی تھیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد عبد الجبار، حدثنا بن عبد الله بن إدريس، عن ليثٍ، عن عطاء، عن عائشة: أنها كانت تؤذِّن وتُقِيم وتؤم النساء وتقوم وَسْطَهنَّ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اذان اور اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کرواتی تھیں اور (عورتوں کی امامت کرتے وقت) صف کے درمیان میں کھڑی ہوتی تھیں۔