حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدّثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدّثنا عمر بن عبد الرحمن بن أَسِيد، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر المؤذن، أنه سمع أبا هريرة يخبر: أنَّ رسول الله ﷺ حدَّثهم: أنَّ جبريل أتاه فصلى به الصلواتِ في وقتين وقتين إلّا المغربَ قال: "فجاءني فصلى بي ساعةَ غابت الشمسُ، ثم جاءني من الغدِ فصلى بي ساعةَ غابت الشمسُ لم يُغيِّره" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا عن محمد بن عبَّاد ابن جعفر (1)، وقد قدَّمتُ له شاهدين. ووجدتُ له شاهدًا آخرَ صحيحًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 696 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا عن محمد بن عبَّاد ابن جعفر (1)، وقد قدَّمتُ له شاهدين. ووجدتُ له شاهدًا آخرَ صحيحًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 696 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا: جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور انہیں دو دو وقتوں میں نمازیں پڑھائیں سوائے مغرب کے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے پاس آئے اور جب سورج غروب ہوا تو نماز پڑھائی، پھر اگلے دن بھی اسی وقت آئے جب سورج غروب ہوا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے شواہد موجود ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے شواہد موجود ہیں۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدّثنا أبو الموجَّه محمد بن عمرو، حدّثنا يوسف بن عيسى، حدّثنا الفضل بن موسى، حدّثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "هذا جبريلُ يعلِّمُكم دِينَكم"، فذكر مواقيتَ الصلاة، ثم ذكر أنه صلَّى المغربَ حين غَرَبَت الشمس، ثم لمّا جاءه من الغدِ صلَّى المغرب حين غربت الشمسُ في وقتٍ واحدٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 697 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 697 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں جو تمہیں تمہارا دین سکھا رہے ہیں،“ پھر آپ ﷺ نے نماز کے اوقات ذکر کیے اور بتایا کہ انہوں نے مغرب دونوں دن سورج غروب ہوتے ہی ایک ہی وقت پر پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔