کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور امارت کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہوگی۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم الدَاربردي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدثنا القَعنَبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا القَعنَبي، حدثنا أسامة بن زيد، عن أبيه، جدّه، عن عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من فارَقَ أُمّتَه، أو عادَ أعرابيًّا بعد هجرتِه، فلا حُجَّةَ له" (1). قد اتَّفق الشيخانٍ (2) على إخراج حديث غَيْلان بن جَرير عن زياد بن رِيَاح عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "مَن فارقَ الجماعةَ فمات مات مَوْتةً جاهليّة"، وهذا المتنُ غيرُ ذاك. الحديث السادس فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 408 - اتفقا على إخراج أبي هريرة في مثل هذا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 408 - اتفقا على إخراج أبي هريرة في مثل هذا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنی امت (کی جماعت) سے الگ ہوا، یا ہجرت کے بعد دوبارہ اعرابی (بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی) کی طرف لوٹ گیا، تو (قیامت کے دن) اس کے پاس کوئی عذر (دلیل) نہیں ہوگا۔“
شیخین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ ”جو جماعت سے الگ ہو کر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا“، مگر یہ متن اس سے مختلف ہے۔ یہ اجماع کے حجت ہونے پر چھٹی دلیل ہے۔
شیخین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ ”جو جماعت سے الگ ہو کر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا“، مگر یہ متن اس سے مختلف ہے۔ یہ اجماع کے حجت ہونے پر چھٹی دلیل ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان القارئ، حدثنا كثير بن أبي كثير أبو النَّضْر (1)، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش قال: أتيتُ حُذيفةَ بن اليَمَان لياليَ سارَ الناسُ إلى عثمان، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن فارَقَ الجماعةَ واستَذَلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجَّةَ له" (2). تابعه أبو عاصم عن كَثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 409 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 409 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ میں ان دنوں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کے خلاف خروج) کے لیے چل پڑے تھے، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور امارت (حکومت/نظمِ ریاست) کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (اپنے بچاؤ کے لیے) کوئی دلیل نہیں ہوگی۔“
یہ اجماع کے حجت ہونے پر ساتویں دلیل ہے۔
یہ اجماع کے حجت ہونے پر ساتویں دلیل ہے۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا كَثير بن أبي كَثير، حدثني رِبْعيُّ بن حِراش: أنه أتى حذيفةَ بن اليَمَان يزورُه - وكانت أختُه تحتَ حذيفة - فقال له حذيفة: يا ربعيُّ، ما فعل قومُك؟ وذلك زمنَ خَرَجَ الناسُ إلى عثمان، قال: قد خرج منهم ناس قال: فسمَّى منهم نفرًا، فقال حذيفة: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن فارقَ الجماعةَ واستَذَلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجَّةَ له عند الله" (3).
هذا حديث صحيح، فإنَّ كثير بن أبي كثير كوفيٌّ سكن البصرةَ، روى عنه يحيى بن سعيد القطّان وعيسى بن يونس، ولم يُذكَر بجَرْح. الحديث السابع فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّة:
هذا حديث صحيح، فإنَّ كثير بن أبي كثير كوفيٌّ سكن البصرةَ، روى عنه يحيى بن سعيد القطّان وعيسى بن يونس، ولم يُذكَر بجَرْح. الحديث السابع فيما يدلُّ على أنَّ الإجماع حُجَّة:
حافظ طلحہ بابر
ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے (حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن ربعی کے نکاح میں تھی)، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا؟ (یہ وہ وقت تھا جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نکلے تھے)، ربعی نے کہا: ان میں سے کچھ لوگ نکل کھڑے ہوئے ہیں اور چند کے نام لیے؛ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص جماعت سے جدا ہوا اور حکومت کو ذلیل سمجھا، وہ اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوگا کہ اللہ کے پاس اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح ہے، کثیر بن ابی کثیر ثقہ ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، کثیر بن ابی کثیر ثقہ ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں ہے۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة، أخبرني أبو هانئ، أنَّ أبا علي الجَنْبي عمرو بن مالك، حدَّثه عن فَضَالة بن عُبيد، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "ثلاثةٌ لا تَسأَل عنهم: رجل فارقَ الجماعة وعصى إمامَه فمات عاصيًا، وأَمَةٌ أو عبدٌ أَبَقَ من سيِّدِه فمات، وامرأةٌ غاب عنها زوجُها وقد كَفَاها مُوْنةَ الدنيا فتبَرَّجَت بعده؛ فلا تَسأَلْ عنهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2)، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2)، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں (ان کی ہلاکت کے سبب) مجھ سے نہ پوچھو (یعنی وہ برباد ہونے والے ہیں): ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہوا اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی نافرمانی کی حالت میں مر گیا؛ دوسرا وہ غلام یا لونڈی جو اپنے مالک سے بھاگ گیا اور اسی حال میں مرا؛ اور تیسری وہ عورت جس کا شوہر غائب (سفر پر) ہو اور اس نے اس کے دنیاوی اخراجات کا پورا انتظام کر رکھا ہو مگر وہ اس کے پیچھے بناؤ سنگھار کر کے (غیر مردوں کے سامنے) ظاہر ہو؛ پس ان کے بارے میں نہ پوچھو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔