کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس چیز کو رسولُ اللہ ﷺ نے حرام کیا وہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے حرام کیا۔
فأخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبْدُوس، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أن معاوية بن صالح أخبره. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن - وهو ابن مَهْدي - حدثنا معاوية بن صالح، حدثني الحسن بن جابر، أنه سمع المِقدامَ بن مَعْدِي كَرِبَ الكِنْدي صاحب النبي ﷺ يقول: حَرَّم النبيُّ ﷺ أشياءَ يومَ خَيبر منها الحمارُ الأهلي وغيره، فقال رسول الله ﷺ: "يُوشِكُ أن يَقعُدَ الرجلُ منكم على أَريكتِه يحدَّثُ بحديثي فيقول: بيني وبينَكم كتابُ الله، فما وَجَدْنا فيه حلالًا استَحَلْلناه، وما وَجَدْنا فيه حرامًا حرَّمناه، وإنَّ ما حرَّمَ رسولُ الله ﷺ كما حَرَّمَ اللهُ" (2). وأما الحديث الثاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 371 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 371 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن چند چیزیں حرام قرار دیں جن میں گھریلو گدھا اور دیگر چیزیں شامل تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایسا ہوگا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو وہ کہے گا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کافی) ہے، پس ہم اس میں جو حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جو اس میں حرام پائیں گے اسے حرام مانیں گے؛ (سن لو!) بے شک رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ حرام کیا وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔“
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا محمد بن خَليفة العاقُولي عَنبَرٌ، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عُقْبة بن خالد الشَّنِّي، حدثنا الحسن قال: بينما عِمرانُ بن حصين يحدِّث عن سُنَّة نبيِّنا ﷺ، إذ قال له رجل: يا أبا نُجَيد، حدِّثنا بالقرآن، فقال له عمران: أنت وأصحابُك تقرؤون القرآن، أكنتَ محدِّثِي عن الصلاة وما فيها وحدودِها؟ أكنتَ محدِّثي عن الزكاة في الذهب والإبل والبقر وأصناف المال؟ ولكن قد شَهِدتُ وغِبتَ أنت، ثم قال: فَرَضَ علينا رسولُ الله ﷺ في الزكاة كذا وكذا، وقال الرجل: أحييتني أحْياكَ الله. قال الحسن: فما مات ذلك الرجل حتى صارَ من فقهاءِ المسلمين (1). عُقْبة بن خالد الشَّنِّي من ثقات البصريين وعُبّادهم، وهو عزيز الحديث، يُجمَع حديثه فلا يَبلُغ تمام العشرة. وصلَّى الله على محمد وآله أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 372 - عقبة ثقة عابد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 372 - عقبة ثقة عابد
حافظ طلحہ بابر
امام حسن بصری سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی سنت بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو نجید! ہمیں قرآن سنائیے (یعنی صرف قرآن کی بات کریں)؛ عمران رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی قرآن پڑھتے ہو، کیا تم مجھے نماز اور اس کے احکامات و حدود کے بارے میں (صرف قرآن سے) بتا سکتے ہو؟ کیا تم مجھے سونے، اونٹ، گائے اور مال کی دیگر اقسام پر زکوٰۃ کی تفصیلات بتا سکتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ میں (رسول اللہ ﷺ کے پاس) موجود تھا اور تم غائب تھے، پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہم پر زکوٰۃ میں اس اس طرح (تفصیلات) فرض کی ہیں، تو اس شخص نے کہا: آپ نے مجھے زندگی عطا کر دی، اللہ آپ کو جیتے جی خوش رکھے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ وہ شخص مرنے سے پہلے مسلمانوں کے فقہاء میں شمار ہونے لگا۔
عقبہ بن خالد شنی ثقہ بصریوں میں سے ہیں، ان کی احادیث کم ہیں اور پوری دس بھی نہیں بنتیں۔
عقبہ بن خالد شنی ثقہ بصریوں میں سے ہیں، ان کی احادیث کم ہیں اور پوری دس بھی نہیں بنتیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان، عن هشام بن حُجَير قال: كان طاووسٌ يصلي ركعتين بعد العصر، فقال له ابن عباس: اترُكْها، فقال: إنما يُنهَى عنهما أن تُتَّخَذَ سُلَّمًا أن يُوصِلَ ذلك إلى غروب الشمس، قال ابن عباس: فإنَّ النبي ﷺ وقد نهى عن صلاةٍ بعد العصر، وما أدري أيُعذَّب عليه أم يُؤجَر، لأنَّ الله يقول: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾ [الأحزاب: 36] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين موافقٌ لما قدَّمنا ذِكرَه من الحثِّ على اتباع السُّنة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 373 - على شرطهما
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين موافقٌ لما قدَّمنا ذِكرَه من الحثِّ على اتباع السُّنة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 373 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن حجیر سے روایت ہے کہ طاؤس عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو؛ انہوں نے کہا: ان سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ انہیں غروبِ آفتاب تک پہنچنے کا ذریعہ نہ بنا لیا جائے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد (ہر قسم کی) نماز سے منع فرمایا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں اس پر عذاب ہوگا یا ثواب، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾ ”اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔“ [سورة الأحزاب: 36]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور سنت کی اتباع کی ترغیب کے موافق ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور سنت کی اتباع کی ترغیب کے موافق ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔