کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔
فحدَّثَناه أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا محمد بن إدريس الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أَبي، عن ثُمَامة، عن أنس: أنه كان يقول لبَنيهِ: قيِّدوا العلمَ بالكتاب (1). أسنَدَه بعضُ البصريِين عن الأنصاري. وكذلك أسنده شيخٌ من أهل مكة غيرُ مُعتمَدٍ عن ابن جُرَيج:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: ”علم کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرو۔“
بعض اہل بصرہ نے اسے مرفوعاً (نبی ﷺ کے قول کے طور پر) بھی بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 366
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل عبد الله بن المثنى الأنصاري، والد محمد ثمامة: هو ابن عبد الله بن أنس بن مالك» [ترقيم الرساله 366] [ترقيم الشركة 360]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجوهري. وأخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب؛ قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المؤمَّل، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ: "قَيِّدوا العلمَ" قلت: وما تقييدُه؟ قال: "كِتابتُه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 362 - ابن المؤمل ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علم کو قید کر لو۔“ میں نے عرض کیا: اسے قید کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لکھنا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عبد الله بن المؤمَّل ضعيف منكر الحديث، وقد اضطرب فيه» [ترقيم الرساله 367] [ترقيم الشركة 361] [ترقيم العلميه 362]
حدثني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جرير بن حازم، عن يعلى بن حَكِيم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: لما قُبِضَ رسولُ الله ﷺ قلتُ لرجل من الأنصار: هَلُمَّ فلنسأَلْ أصحابَ رسول الله ﷺ، فإنهم اليومَ كثير، فقال: واعجبًا لك يا ابنَ عباس، أترى الناسَ يَفتقِرون إليك وفي الناس من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاك، وأقبلتُ أسألُ أصحابَ رسول الله ﷺ، وإن كان يَبلُغُني الحديثُ عن الرجل فآتي بابَه وهو قائلٌ، فأتوسَّدُ ردائي على بابه تَسْفي الريحُ عليَّ من التراب، فيخرج فيراني فيقول: يا ابنَ عمّ رسول الله، ما جاءَ بك، هلَّا أرسلت إليَّ فآتيَك؟ فأقول: لا، أنا أحقُّ أن آتيَك، قال: فأسأله عن الحديث. فعاش هذا الرجلُ الأنصاريُّ حتى رآني وقد اجتمع الناسُ حولي يسألونني، فيقول: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، وهو أصلٌ في طلب الحديث وتوقير المحدِّث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 363 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے انصار کے ایک صاحب سے کہا: آؤ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے (علم) دریافت کریں کیونکہ وہ آج کثیر تعداد میں موجود ہیں، اس نے کہا: اے ابن عباس! آپ پر تعجب ہے، کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ لوگ (علم کے لیے) آپ کے محتاج ہوں گے جبکہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ موجود ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات چھوڑ دی اور خود صحابہ سے سوال کرنے میں جت گیا، اگر مجھے کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ اس کے پاس کوئی حدیث ہے تو میں دوپہر کے وقت اس کے دروازے پر پہنچ جاتا، میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر اس کے دروازے پر لیٹ جاتا اور ہوا مجھ پر مٹی اڑاتی رہتی، پھر جب وہ صاحب باہر نکلتے اور مجھے دیکھتے تو کہتے: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد! آپ یہاں کیسے آئے؟ آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیج دیا، میں خود آپ کے پاس حاضر ہو جاتا؟ میں کہتا: نہیں، میرا حق زیادہ ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں، پھر میں ان سے حدیث کے بارے میں سوال کرتا۔ (ابن عباس فرماتے ہیں کہ) وہ انصاری شخص اتنا عرصہ زندہ رہا کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھ لیا کہ لوگ میرے گرد (علم کے لیے) جمع تھے، تو وہ کہنے لگا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ طلبِ حدیث اور محدث کی توقیر کے معاملے میں ایک بنیادی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 368
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، صحيح الحارث بن محمد: هو ابن أبي أسامة» [ترقيم الرساله 368] [ترقيم الشركة 362] [ترقيم العلميه 363]