کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اس آیت کی تفسیر: جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البصري بمِصر، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، عن كُلْثوم بن جَبْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال: "أَخَذَ اللهُ الميثاقَ من ظَهْر آدم، فأَخرج من صُلْبه ذُرِّيةً ذَرَأَها فنَثَرَهم نَثْرًا بين يديه كالذَّرِّ، ثم كلَّمهم، فقال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف] " (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بكُلْثوم بن جَبْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 75 - احتج مسلم بكلثوم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کی پشت سے (وادی نعمان میں) عہد و میثاق لیا، پس ان کی صلب سے ان کی وہ تمام نسل نکالی جو وہ پیدا کرنے والا تھا اور انہیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلا دیا، پھر ان سے کلام کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے، یا یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد کی نسل تھے، کیا تو ہمیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرست تھے؟“ [سورة الأعراف: 172-173]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے کلثوم بن جبر سے احتجاج کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 75
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد، وإن كان أكثر من رواه عن كلثوم بن جبر رواه عنه موقوفًا على ابن عباس، لكن مثل هذا لا يقال بالرأي، فهو محمول على الرفع، خاصة أنه قد روي معناه في أحاديث أخرى مرفوعة عن النبي ﷺ-» [ترقيم الرساله 75] [ترقيم الشركة 75] [ترقيم العلميه 75]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا خَلَف بن خَليفة، عن حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال: "يومَ كَلَّمَ اللهُ موسى كان عليه جُبَّةُ صوفٍ، وسراويلُ صوفٍ، وكُمَّةُ صوفٍ، وكِساءُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ" (1). قد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث سعيد بن منصور، وحُميدٌ هذا ليس بابن قيس الأعرج، قال البخاري في "التاريخ": حميد بن علي الأعرج الكوفي مُنكَر الحديث، وعبد الله بن الحارث النَّجْراني مُحتَجٌّ به (2)، واحتجَّ مسلم وحده بخلف بن خليفة، و
هذا حديث كبير في التصوف والتكليم (3)، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، اس وقت وہ اون کا جبہ، اون کی شلوار، اون کی ٹوپی، اون کی چادر پہنے ہوئے تھے اور ان کے جوتے گدھے کی ایسی کھال کے تھے جو (شرعی طریقے سے) دباغت شدہ نہیں تھی۔“
امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے ”التاريخ“ میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 76
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، حميد الأعرج متروك الحديث، والعجب من الحاكم كيف أخرجه مع أنه نقل لاحقًا عن البخاري أنه قال فيه: منكر الحديث- وسيأتي هذا الخبر عند الحاكم برقم (3472) مخرَّجًا من طريق عمر بن حفص بن غياث عن أبيه وخلف بن خليفة ووقع حميد هناك مسمًّى بحميد بن قيس، ...» [ترقيم الرساله 76] [ترقيم الشركة 76] [ترقيم العلميه 76]