المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا باب: نماز میں ہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑے ہونے سے منع فرمایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 989
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن حُصَين بن عبد الرحمن، عن هلال بن يِسَاف قال: قَدِمتُ الرَّقّةَ، فقال لي بعضُ أصحابي: هل لك في رجل من أصحاب النبي ﷺ؟ قال: قلت: نعم، غَنِيمةٌ، فَدَفَعْنا إلى وابِصةَ بن مَعبدَ، قلت لصاحبي: نبدأُ فنَنظُرُ إلى دَلِّه، فإذا عليه قَلَنْسُوَة لاطِيَة ذاتُ أُذنين، وبُرنُسُ خَزٍّ أغبَرُ، وإذا هو معتمِدٌ على عصا في صلاته، فقلنا له بعد أن سلَّمْنا، فقال: حدثتني أمُّ قيس بنت مِحصَن: أنَّ رسول الله ﷺ لما أسَنَّ وحَمَلَ اللحمَ، اتَّخَذَ عمودًا في الصلاة يَعتمِدُ عليه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، غيرَ أنهما لم يُخرجا لوابصةَ بن مَعبَد لفساد الطريق إليه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 975 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عمر رسیدہ ہو گئے اور آپ کے جسم مبارک پر گوشت بڑھ گیا تو آپ ﷺ نے نماز میں سہارے کے لیے ایک ستون (یا لاٹھی) بنا لی تھی جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے وابصہ بن معبد کی روایت کو اس کی سند میں موجود راویوں کی حالت کی وجہ سے نہیں لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (948) عن عبد السلام بن عبد الرحمن الوابصي، عن أبيه، عن شيبان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (948) نے عبدالسلام بن عبدالرحمن عن ابیہ عن شیبان کی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) كذا قال المصنف! ولا ندري ما وجه الفساد الذي ذكره، فإنَّ الرواة في هذا الحديث إلى وابصه ثقات مشهورون والإسناد إليه متصل.
علّت / فنی نکتہ: (2) مصنف نے اس سند کو "فاسد" کہا ہے مگر اس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، کیونکہ وابصہ تک تمام راوی ثقہ اور مشہور ہیں اور سند متصل ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (948) عن عبد السلام بن عبد الرحمن الوابصي، عن أبيه، عن شيبان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (948) نے عبدالسلام بن عبدالرحمن عن ابیہ عن شیبان کی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) كذا قال المصنف! ولا ندري ما وجه الفساد الذي ذكره، فإنَّ الرواة في هذا الحديث إلى وابصه ثقات مشهورون والإسناد إليه متصل.
علّت / فنی نکتہ: (2) مصنف نے اس سند کو "فاسد" کہا ہے مگر اس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، کیونکہ وابصہ تک تمام راوی ثقہ اور مشہور ہیں اور سند متصل ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 989 سے ماخوذ ہے۔