حدیث نمبر: 980
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي ومحمد بن غالب قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هند، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن تَمِيم الداريِّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أولُ ما يُحاسَبُ به العبدُ يومَ القيامة صلاتُه، فإن كان أكمَلَها كُتِبت له كاملةً، وإن لم يُكمِلْها قال الله ﵎ لملائكته: هل تَجِدُون لعبدي تطوُّعًا تُكمِلُوا به ما ضَيَّع من فريضتِه، ثم الزكاةُ مثل ذلك، ثم سائرُ الأعمال على حَسَبِ ذلك" (2) قَصَّرَ به بعضُ أصحاب حماد بن سلمة، وموسى بن إسماعيل الحَكَمُ في حديثه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر اس نے اسے مکمل کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھی جائے گی اور اگر اس نے اسے مکمل نہ کیا ہوگا تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: کیا تم میرے بندے کے نامہ اعمال میں کچھ نوافل پاتے ہو جن سے اس کے فرائض کی کمی کو پورا کیا جا سکے، پھر زکوٰۃ کا حساب بھی اسی طرح ہوگا اور پھر باقی تمام اعمال بھی اسی حساب سے ہوں گے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ بعض نے اسے مختصر بیان کیا ہے مگر موسیٰ بن اسماعیل کی روایت زیادہ پختہ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 980
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إن شاء الله، فزرارة بن أوفى قد اختُلف في سماعه من تميم الداري، فقد نقل ، مهنَّا عن أحمد -كما في "شرح علل الترمذي" لابن رجب 1/ 368 - أنه لم يسمع من تميم، قال أحمد: تميم بالشام وزرارة بصري! وذهب أبو أحمد الحاكم في كتابه "الأسامي والكنى" (1849) إلى أنه سمع منه-» [ترقيم الرساله 980] [ترقيم الشركة 972]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح إن شاء الله، فزرارة بن أوفى قد اختُلف في سماعه من تميم الداري، فقد نقل

مهنَّا عن أحمد -كما في "شرح علل الترمذي" لابن رجب 1/ 368 - أنه لم يسمع من تميم، قال أحمد: تميم بالشام وزرارة بصري! وذهب أبو أحمد الحاكم في كتابه "الأسامي والكنى" (1849) إلى أنه سمع منه.

درجۂ حدیث: (2) ان شاء اللہ اس کی سند صحیح ہے۔
سندی اختلاف: زرارہ بن اوفیٰ کے تمیم داری سے سماع پر اختلاف ہے؛ امام احمد نے انکار کیا ہے کیونکہ تمیم شام میں تھے اور زرارہ بصری، مگر ابواحمد الحاکم نے سماع کو ثابت مانا ہے۔
وأخرجه أبو داود (866) عن موسى بن إسماعيل بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (866) نے موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (16951) و (16954)، وابن ماجه (1426) من طرق عن حماد بن سلمة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16951/28) اور ابن ماجہ (1426) نے حماد بن سلمہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 980 سے ماخوذ ہے۔