حدیث نمبر: 975
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ سُوَيد بن قيس أخبره عن معاوية بن حُدَيج: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى يومًا فسلَّمَ وانصرفَ وقد بَقِيَ من الصلاة ركعةٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، وهو من النوع الذي يَطلُبان للصحابي متابِعًا (3) في الرواية، على أنهما جميعًا قد خرَّجا مثلَ هذا.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، سلام پھیرا اور چلے گئے جبکہ نماز میں ایک رکعت باقی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے، یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس میں صحابی کے لیے متابع تلاش کیا جاتا ہے، اگرچہ انہوں نے اس طرح کی دیگر روایات پہلے ہی نقل کی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده
تخریج حدیث «إسناده، قوي عبيد بن شريك صدوق لا بأس به» [ترقيم الرساله 975] [ترقيم الشركة 967]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده، قوي عبيد بن شريك صدوق لا بأس به. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (2) سند قوی ہے، عبید بن شریک صدوق راوی ہیں۔
(3) ظاهر هذه العبارة أنَّ الشيخين من شرطهما أن لا يخرجا للصحابي حديثًا إلا إذا جاء ما يشهد له من حديث صحابي آخر، وهذا ذهولٌ من الحاكم ﵀، فإنهما لم يشترطا هذا ولم يفعلاه، ولم يذكر أحد من أهل العلم غير الحاكم ذلك عنهما.
علّت / فنی نکتہ: (3) حاکم کا یہ کہنا کہ شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط ہے کہ وہ کسی صحابی کی روایت تب لیتے ہیں جب دوسرا صحابی شاہد ہو، ان کا "ذہول" (بھول) ہے؛ کیونکہ شیخین نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی اور نہ ہی حاکم کے علاوہ کسی اور محدث نے یہ بات ان کی طرف منسوب کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 975 سے ماخوذ ہے۔