مستدرکِ حاکم
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
السَّهْوُ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بھول چوک (سہو) کا بیان۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن سَمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير بن حازم، حدثنا أبي قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ: المغربَ، فسَهَا، فسلَّمَ في ركعتين ثم انصرفَ، فقال له رجل: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين! فأمرَ بلالًا فأقامَ الصلاةَ ثم أتمَّ تلك الركعةَ، فسألتُ الناس عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلَّا أن أَراه، فمرَّ بي رجل فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحةُ بن عُبيد الله (1). اختصره الليثُ بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 960 - ورواه الليث عن يزيد مختصرا وهو على شرطهماسیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ ﷺ کو سہو ہوا اور دو رکعتوں پر سلام پھیر کر تشریف لے گئے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سے سہو ہوا اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، آپ ﷺ نے سیدنا بلال کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے وہ ایک رکعت پوری کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے کہا تھا: یا رسول اللہ! آپ سے سہو ہوا، تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا)، پھر میرے پاس سے ایک شخص گزرا تو میں نے کہا: یہ وہی ہے، لوگوں نے کہا: یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیث بن سعد نے اسے یزید بن ابی حبیب سے مختصراً روایت کیا ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے، اور علی بن ابراہیم اور یحییٰ بن ایوب کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ یہ نمبر (1221) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه ابن حبان (2674) من طريق محمد بن بشار، عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2674) نے محمد بن بشار عن وہب بن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بطوله نحوه أحمد 45/ (27254) عن حجاج بن محمد وأبو داود (1023)، والنسائي (1640) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، به. وإسناده صحيح. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (27254/45)، ابوداؤد (1023) اور نسائی (1640) نے لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔