المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
السَّهْوُ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بھول چوک (سہو) کا بیان۔
حدیث نمبر: 974
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن سَمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير بن حازم، حدثنا أبي قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ: المغربَ، فسَهَا، فسلَّمَ في ركعتين ثم انصرفَ، فقال له رجل: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين! فأمرَ بلالًا فأقامَ الصلاةَ ثم أتمَّ تلك الركعةَ، فسألتُ الناس عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلَّا أن أَراه، فمرَّ بي رجل فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحةُ بن عُبيد الله (1). اختصره الليثُ بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 960 - ورواه الليث عن يزيد مختصرا وهو على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ ﷺ کو سہو ہوا اور دو رکعتوں پر سلام پھیر کر تشریف لے گئے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سے سہو ہوا اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، آپ ﷺ نے سیدنا بلال کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے وہ ایک رکعت پوری کی۔ لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یاد دلانے والے شخص سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن إبراهيم الواسطي ويحيى بن أيوب المصري وسيأتي مكررًا برقم (1221).
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے، اور علی بن ابراہیم اور یحییٰ بن ایوب کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ یہ نمبر (1221) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه ابن حبان (2674) من طريق محمد بن بشار، عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2674) نے محمد بن بشار عن وہب بن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بطوله نحوه أحمد 45/ (27254) عن حجاج بن محمد وأبو داود (1023)، والنسائي (1640) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، به. وإسناده صحيح. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (27254/45)، ابوداؤد (1023) اور نسائی (1640) نے لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے، اور علی بن ابراہیم اور یحییٰ بن ایوب کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ یہ نمبر (1221) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه ابن حبان (2674) من طريق محمد بن بشار، عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2674) نے محمد بن بشار عن وہب بن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بطوله نحوه أحمد 45/ (27254) عن حجاج بن محمد وأبو داود (1023)، والنسائي (1640) عن قتيبة بن سعيد، كلاهما عن الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، به. وإسناده صحيح. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (27254/45)، ابوداؤد (1023) اور نسائی (1640) نے لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 974 سے ماخوذ ہے۔