مستدرکِ حاکم
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْغَائِطُ فَابْدَءُوا بِالْغَائِطِ باب: جب نماز کا وقت ہو جائے اور قضائے حاجت کا تقاضا ہو تو پہلے قضائے حاجت کرو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن عُروة بن رُوَيْم، عن ابن الدَّيلَمي الذي كان يَسكُن بيتَ المَقدِس: أنه رَكِبَ في طلب عبد الله بن عمرو بن العاص بالمدينة، فسأَل عنه فقالوا: قد سارَ إلى مكةَ، فاتّبعه فوَجَدَه قد سار إلى الطائف، فاتّبعه فوَجَدَه في زَرْعِه الذي يُسمَّى الوَهْطَ، قال ابن الدَّيلَمي: فدخلتُ عليه فوجدتُه يمشي مُخاصِرًا رجلًا من قريش، والقرشيُّ يُزَنُّ بالخمر، فلمّا لَقِيتُه سلَّمتُ عليه وسلَّم عليَّ، فقال: ما غَدَا بك، ومن أين أقبَلْتَ، فأخبرته، ثم سألتُه: هل سمعتَ يا عبد الله بن عمرٍو رسولَ الله ﷺ ذَكَرَ شرابَ الخمر بشيءٍ؟ قال: نعم، فانتَزَعَ القرشيُّ يدَه، ثم ذهب، فقال: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "لا يَشرَبُ الخمرَ رجلٌ من أمَّتي فتُقبَلَ له صلاةٌ أربعين صباحًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 945 - على شرطهمابیت المقدس میں رہنے والے ابن دیلمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی تلاش میں سوار ہو کر مدینہ گئے، ان کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: وہ مکہ چلے گئے ہیں، وہ ان کے پیچھے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ طائف چلے گئے ہیں، وہ ان کے پیچھے گئے تو انہیں ان کی "وہط" نامی کھیتی میں پایا۔ ابن دیلمی کہتے ہیں: میں ان کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ قریش کے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے چل رہے ہیں، اور اس قریشی پر شراب نوشی کا الزام تھا، جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا، انہوں نے پوچھا: کیسے آنا ہوا اور کہاں سے آئے ہو؟ میں نے انہیں بتایا، پھر میں نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو شراب پینے والے کے بارے میں کچھ ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، تو اس قریشی نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور چلا گیا، پھر انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "میری امت کا جو آدمی شراب پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: محمد بن مہاجر انصاری شامی راوی ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 11/ (6854) عن أبي المغيرة: وهو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني - عن محمد بن مهاجر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (6854/11) نے ابوالمغیرہ (عبدالقدوس الخولانی) عن محمد بن مہاجر کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (5154) من طريق عثمان بن حِصْن، عن عروة بن رويم، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5154) نے عثمان بن حصن عن عروہ بن رویم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف بأطول مما هنا برقم (83) من طريق ربيعة بن يزيد ويحيى بن أبي عمرو السَّيباني عن ابن الديلمي عبد الله بن فيروز.
تکرار: یہ پہلے نمبر (83) پر ربیعہ بن یزید کی سند سے تفصیلاً گزر چکی ہے۔