حدیث نمبر: 945
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا حاتم بن إسماعيل. وحدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أَبي، حدثنا هشام بن عمَّار، حدثنا حاتم بن إسماعيل، حدثنا أبو حَزْرة يعقوب بن مجاهد، عن عُبَادة بن الوليد قال: أتَينا جابرَ بن عبد الله فقال: سِرتُ مع رسول الله ﷺ في غزوةٍ فقام يُصلِّي، وكانت عليَّ بُرْدةٌ فذهبتُ أُخالِفُ بين طَرَفَيْها، ثم تَواثَقتُ عليها لا تَسقُطُ، ثم جئت عن يَسارِ رسول الله ﷺ فأخذ بيدي فأدارَني حتى أقامَني عن يمينه، فجاء ابنُ صَخْر حتى قام عن يسارِه فأخَذَنا بيديه جميعًا حتى أقامَنا خلفَه، قال: وجعل رسولُ الله ﷺ يَرمُقُني وأنا لا أشعُرُ، ثم فَطَنتُ به فأشارَ إليَّ أَن أَتَّزِرَ بها، فلما فَرَغَ رسول الله ﷺ قال: "يا جابرُ" قلت: لبَّيكَ يا رسولَ الله، قال: "إذا كان واسعًا فخالِفْ بين طَرَفَيهِ، وإذا كان ضيِّقًا فاشدُدْه على حَقْوِك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 932 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، میرے پاس ایک ہی چادر تھی، میں نے اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کی اور اسے مضبوطی سے تھام لیا تاکہ وہ گر نہ جائے، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر آئے اور آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھ رہے تھے اور مجھے احساس نہیں تھا، پھر مجھے سمجھ آئی تو آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ میں اس چادر کو تہبند کی طرح باندھ لوں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: "اے جابر! " میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر کپڑا چوڑا ہو تو اس کے کناروں کو (کندھوں پر) مخالف سمت میں ڈال لیا کرو، اور اگر تنگ ہو تو اسے کمر پر باندھ لیا کرو۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 945] [ترقيم الشركة 938] [ترقيم العلميه 932]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (634) عن هشام بن عمار وآخرين، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (634) نے ہشام بن عمار وغیرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (3010)، وابن حبان (2197) من طرق عن حاتم بن إسماعيل، به. فاستدراك الحاكم لهذا الحديث ذهولٌ منه ﵀.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (3010) اور ابن حبان (2197) نے حاتم بن اسماعیل کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرج أصله البخاري (361) من طريق فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله. وانظر "مسند أحمد" 22/ (14518) و (14594).
حوالہ / مصدر: اس کی اصل امام بخاری (361) کے ہاں فلیح بن سلیمان کی سند سے موجود ہے۔
والحَقْو: موضع شدِّ الإزار، وهو الخاصرة.
(توضیح): "الحقو" سے مراد کمر کا وہ حصہ ہے جہاں تہبند باندھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 945 سے ماخوذ ہے۔