حدیث نمبر: 936
أخبرنا أبو الفضل الحسن (3) بن يعقوب العَدْل، حدثنا السَّريُّ بن خُزَيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة، عن أبي هانئ، عن أبي علي الجَنْبي، عن فَضَالة بن عُبيد الأنصاري: أنَّ رسول الله ﷺ رأى رجلًا صلَّى لم يَحمَدِ اللهَ ولم يُمجِّدْه، ولم يُصَلِّ على النبيِّ ﷺ، وانصَرَفَ، فقال رسول الله ﷺ: "عَجِلَ هذا" فَدَعَاه، فقال له ولغيره: "إذا صلَّى أحدُكم فليَبدَأْ بتمجيد ربِّه والثناءِ عليه، وليُصلِّ على النبي ﷺ ثم يَدعُو بما شاءَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 840 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نماز پڑھی لیکن نہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور نہ نبی ﷺ پر درود بھیجا اور وہ چلا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اس نے جلدی کی۔" پھر آپ ﷺ نے اسے بلایا اور اسے اور دوسروں کو فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے اپنے رب کی حمد و ثنا سے آغاز کرنا چاہیے، پھر نبی ﷺ پر درود بھیجنا چاہیے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 936
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، حيوة: هو ابن شُريح، وأبو هانئ: هو حميد بن هانئ، وأبو علي الجنبي: هو عمرو بن مالك» [ترقيم الرساله 936] [ترقيم الشركة 846] [ترقيم العلميه 840]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسين، بياء، والتصويب في "إتحاف المهرة" 12/ 655، وله ترجمة في "سير أعلام النبلاء" 15/ 433.
فنی نکتہ: (3) خطی نسخوں میں نام "الحسین" (یا کے ساتھ) ہو گیا تھا، درست "الحسن" ہے جیسا کہ "اتحاف المہرہ" اور علامہ ذہبی کے ہاں ہے۔
(1) إسناده صحيح. حيوة: هو ابن شُريح، وأبو هانئ: هو حميد بن هانئ، وأبو علي الجنبي: هو عمرو بن مالك. وسيأتي الحديث برقم (1002).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: حیوہ سے مراد ابن شریح، ابوہانی سے مراد حمید بن ہانی اور ابوعلی الجنبی سے مراد عمرو بن مالک ہیں۔ یہ آگے نمبر (1002) پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد 39/ (23937)، وأبو داود (1481)، والترمذي (3477)، وابن حبان (1960) من طريق أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23937/39)، ابوداؤد (1481)، ترمذی (3477) اور ابن حبان (1960) نے المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي (1208) من طريق عبد الله بن وهب، عن حيوة بن شريح، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1208) نے ابن وہب عن حیوہ بن شریح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الترمذي (3476) من طريق رِشدين بن سعد، عن أبي هانئ الخولاني، به.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3476) نے رشدین بن سعد (ضعیف) کی سند سے اسی معنی میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 936 سے ماخوذ ہے۔