المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ باب: بندہ اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں بنتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے
حدیث نمبر: 92
حدَّثَناه يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطَّالْقاني، حدثنا جرير. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن شاذان قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن منصور، عن رِبْعي، عن علي، عن النبي ﷺ قال: "لا يؤمنُ عبدٌ حتَّى يؤمن بأربعٍ: يشهدُ أن لا إلهَ إلَّا الله وحده لا شريكَ له، وأنِّي رسول الله بَعَثَني بالحقّ، وأنه مبعوثٌ بعد الموت، ويؤمنُ بالقَدَرِ كلِّه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے: اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اور یہ کہ اسے موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اور وہ مکمل تقدیر پر ایمان لائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد.
وأخرجه أبو يعلى (583) عن أبي خيثمة زهير بن حرب عن جرير، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور جریر سے مراد "جریر بن عبدالحمید" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ نے (583) میں ابونیثمہ زہیر بن حرب عن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (583) عن أبي خيثمة زهير بن حرب عن جرير، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور جریر سے مراد "جریر بن عبدالحمید" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ نے (583) میں ابونیثمہ زہیر بن حرب عن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 92 سے ماخوذ ہے۔