حدیث نمبر: 908
حدثنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث قال: اشتَكى أبو هريرة - أو غابَ - فصلَّى لنا أبو سعيد الخُدْري، فجَهَرَ بالتكبير حين افتتح الصلاة، وحين ركع، وحين قال: سَمِعَ الله لمن حَمِدَه، وحين رفع رأسَه من السجود، وحين سجد، وحين رفع، وحين قام من الركعتين، حتى قَضَى صلاتَه على ذلك، فقيل له: إنَّ الناس قد اختَلَفوا في صلاتك، فخَرَجَ فقام على المنبر فقال: أيها الناس، إني والله ما أُبالي اختَلَفَت صلاتُكم، أو لم تَختلِف، هكذا رأيتُ رسولَ الله ﷺ يُصلِّي (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث غَيْلان بن جَرِير عن مطرِّف عن عِمران بن حُصَين مختصرًا (3)، وقد تفرَّد البخاريُّ (1) بحديث عِكْرِمة قال: قلت لابن عباس: صلَّيتُ الظهرَ بالبطحاء خلفَ شيخٍ أحمقَ فكبَّر ثنتين وعشرين تكبيرةً … الحديث على الاختصار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 813 - على شرطهما وشاهده في الصحيح
حافظ طلحہ بابر

سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے نماز کے آغاز میں، رکوع میں جاتے وقت، «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے پر، سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت، اور دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی۔ جب لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کی نماز (دوسروں سے) مختلف ہے، تو وہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! اللہ کی قسم، مجھے اس کی پروا نہیں کہ تمہاری نماز (سنت سے) مختلف ہو جائے، میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل فليح بن سليمان» [ترقيم الرساله 908] [ترقيم الشركة 818] [ترقيم العلميه 813]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو البصري.
درجۂ حدیث: (2) فلیح بن سلیمان کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوعامر العقدی سے مراد عبدالملک بن عمرو البصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 17/ (11140) عن أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11140/17) نے ابوعامر العقدی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا البخاري (825) عن يحيى بن صالح، عن فليح بن سليمان، به.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (825) نے یحییٰ بن صالح عن فلیح بن سلیمان کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
(3) هو عند البخاري برقم (786) و (826)، ومسلم برقم (393)، وهو عندهما عن مطرف قال: صلَّيتُ خلف علي بن أبي طالب أنا وعمران بن حصين، فكان إذا سجد كبَّر، وإذا رفع رأسه

كبَّر، وإذا نهض من الركعتين كبَّر، فلما قضى الصلاة أخذ بيدي عمران بن حصين فقال: قد ذكَّرني هذا صلاةَ محمد ﷺ.

حوالہ / مصدر: (3) یہ بخاری (786، 826) اور مسلم (393) کے ہاں مطرف کی سند سے ہے کہ "میں نے اور عمران بن حصین نے حضرت علی کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر تکبیر کہتے تھے..."۔ آخر میں عمران نے کہا کہ انہوں نے مجھے نبی ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔
(1) في "صحيحه" برقم (788).
حوالہ / مصدر: (1) یہ ان کی "صحیح" میں نمبر (788) پر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 908 سے ماخوذ ہے۔