حدیث نمبر: 905
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك وأحمد بن إبراهيم بن مِلْحان قالا: حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهادِ، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عبد الرحمن بن الحُوَيرِث، عن محمد بن جُبَير، عن عبد الرحمن بن عَوْف قال: دخلتُ المسجدَ ورسولُ الله ﷺ خارجٌ من المسجد فتَبِعْتُه أَمشي وراءَه وهو لا يَشْعُرُ، حتى دخل نخلًا فاستقبل القِبلةَ فسجد فأطال السجودَ وأنا وراءَه، حتى ظننتُ أنَّ الله قد توفَّاه، فأقبلتُ أَمشي حتى جئتُه فطَأطَاتُ رأسي أنظُرُ في وجهه، فرَفَعَ رأسَه فقال: "ما لكَ يا عبدَ الرحمن؟ " فقلت: لمَّا أطَلْتَ السجودَ يا رسول الله، خَشِيتُ أن يكون تُوفِّيَ نفسُك، فجئت أنظرُ، فقال: "إني لما دخلتُ النخلَ لَقِيتُ جبريلَ فقال: إني أبشِّرُك أنَّ الله يقول: مَن سَلَّمَ عليك سلَّمتُ عليه، ومَن صلَّى عليك صلَّيتُ عليه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ في سجدة الشُّكر أصحَّ من هذا الحديث، وقد خرَّجتُ حديث بكَّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة بعد هذا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 810 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا اور آپ ﷺ کو میری موجودگی کا احساس نہ ہوا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوئے، قبلہ رخ ہوئے اور سجدہ کیا، آپ ﷺ نے سجدہ اتنا طویل کیا کہ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ کی روح قبض نہ کر لی ہو۔ میں قریب گیا اور اپنا سر جھکا کر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھنے لگا، آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور پوچھا: ”اے عبد الرحمن! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سجدہ اتنا طویل کیا کہ مجھے آپ کی وفات کا ڈر لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں اس باغ میں داخل ہوا تو میری ملاقات جبرائیل علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے کہا: میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا اور جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ سجدہ شکر کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح حدیث میری نظر میں کوئی نہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 905
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «حديث حسن إن شاء الله بمجموع طرقه على خلاف في إسناده هذا على عمرو بن أبي عمرو ، كما هو مبيَّن في التعليق على الحديث في "مسند أحمد" 3/ (1664) وفي "العلل" للدارقطني 4/ 296 (577)- وعمرو بن أبي عمرو: هو مولى المطلب بن عبد الله بن حنطب، وهو على ...» [ترقيم الرساله 905] [ترقيم الشركة 815] [ترقيم العلميه 810]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن إن شاء الله بمجموع طرقه على خلاف في إسناده هذا على عمرو بن أبي عمرو

كما هو مبيَّن في التعليق على الحديث في "مسند أحمد" 3/ (1664) وفي "العلل" للدارقطني 4/ 296 (577). وعمرو بن أبي عمرو: هو مولى المطلب بن عبد الله بن حنطب، وهو على ثقته ربما وهمَ، ومحمد بن جبير في سماعه من عبد الرحمن بن عوف نظرٌ فيما قاله الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 303.

درجۂ حدیث: (2) اپنے تمام طرق کے مجموعے سے یہ "حدیث حسن" ہے اگرچہ عمرو بن ابی عمرو کی سند پر اختلاف ہے۔
فنی نکتہ: محمد بن جبیر کا حضرت عبدالرحمن بن عوف سے سماع محلِ نظر ہے جیسا کہ ابن حجر نے کہا۔
وأخرجه أحمد 3/ (1662) و (1663) من طريقين عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1662، 1663 /3) نے لیث بن سعد کے دو طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2042) من طريق سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن عبد الواحد بن محمد بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن بن عوف.
تکرار: یہ آگے نمبر (2042) پر سلیمان بن بلال کے طریق سے مروی طویل سند کے ساتھ آئے گی۔
(1) سيأتي عند المصنف برقم (1038) و (7983).
تکرار: (1) یہ مصنف کے ہاں آگے نمبر (1038) اور (7983) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 905 سے ماخوذ ہے۔