المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
ذِكْرُ مَبْلَغِ الْعَرَقِ مِنِ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن ابنِ آدم کے پسینے کی مقدار کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9013
أخبرنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القَطّان، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عِكرِمة بن عمّار، حدثنا إياس بن سَلَمة بن الأكوَع، حدثني أَبي قال: عُدْنا مع رسول الله ﷺ رجلًا موعوكًا، فوَضَعتُ يدي عليه فقلت: تاللهِ [ما رأيتُ] (3) كاليوم رجلًا أشدَّ حرًّا منه، فقال رسول الله ﷺ: "ألا أخبِرُكم بأشدَّ حرًّا منه يومَ القيامة، هاذَينِكَ الرجلينِ الراكبَينِ المُقفِّيِّين"؛ لرجلين حينئذٍ من أصحابه (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8798 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بخار میں مبتلا شخص کی عیادت کے لیے گئے، میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو عرض کی: اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح اس سے زیادہ گرم (بخار والا) کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ شدید گرمی (عذاب) میں ہوگا؟ وہ پیٹھ پھیر کر جانے والے یہ دو سوار ہیں۔“ آپ ﷺ کی مراد اس وقت آپ کے ساتھیوں میں سے دو آدمیوں سے تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) هذه الزيادة من مصادر التخريج وليست في النسخ الخطية.
فنی نکتہ / علّت: (3) یہ اضافہ تخریج کے مصادر سے لیا گیا ہے اور یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(4) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: (4) اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه مسلم (2783) من طريق النضر بن محمد اليمامي، عن عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام مسلم (2783) نے نضر بن محمد الیمامی کے طریق سے، عکرمہ بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
المقفيَين: أي: المنصرفين الموليين أقفيتهما.
نوٹ / توضیح: "الْمُقْفِيَيْنِ" کا مطلب ہے: پیٹھ پھیر کر واپس لوٹنے والے۔
قوله: "من أصحابه" سمّاهما هكذا لإظهارهما الإسلام والصحبة، لا أنهما ممَّن نالته فضيلة الصحبة. قاله النووي في "شرح مسلم".
نوٹ / توضیح: قول: "اپنے اصحاب میں سے"؛ آپ ﷺ نے ان دونوں کو یہ نام اس لیے دیا کیونکہ وہ بظاہر اسلام اور صحبت کا اظہار کرتے تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں (حقیقی) صحبت کی فضیلت نصیب ہوئی۔ یہ بات امام نووی نے "شرح مسلم" میں فرمائی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (3) یہ اضافہ تخریج کے مصادر سے لیا گیا ہے اور یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(4) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: (4) اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه مسلم (2783) من طريق النضر بن محمد اليمامي، عن عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام مسلم (2783) نے نضر بن محمد الیمامی کے طریق سے، عکرمہ بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
المقفيَين: أي: المنصرفين الموليين أقفيتهما.
نوٹ / توضیح: "الْمُقْفِيَيْنِ" کا مطلب ہے: پیٹھ پھیر کر واپس لوٹنے والے۔
قوله: "من أصحابه" سمّاهما هكذا لإظهارهما الإسلام والصحبة، لا أنهما ممَّن نالته فضيلة الصحبة. قاله النووي في "شرح مسلم".
نوٹ / توضیح: قول: "اپنے اصحاب میں سے"؛ آپ ﷺ نے ان دونوں کو یہ نام اس لیے دیا کیونکہ وہ بظاہر اسلام اور صحبت کا اظہار کرتے تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں (حقیقی) صحبت کی فضیلت نصیب ہوئی۔ یہ بات امام نووی نے "شرح مسلم" میں فرمائی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 9013 سے ماخوذ ہے۔