حدیث نمبر: 9004
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم الرّازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "عُرِضَت عليَّ النارُ، فرأيتُ فيها عمرَو بنَ قَمَعَة بنِ خِندِفَ أبو عمرو، وهو يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وهو أول من سَيَّبَ السَّوائب، وغَيَّر عهدَ إبراهيم ﵇، وأشبه من رأيتُ به أكثمُ بن أبي الجَوْن" قال: فقال أكثمُ: يا رسول الله، يَضرُّني شَبَهُه؟ قال: "لا، إنك مسلمٌ وإنه كافرٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ابوسلمہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر جہنم پیش کی گئی، تو میں نے اس میں عمرو بن قمعہ بن خندف یعنی ابوعمرو کو دیکھا، اور وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے (بتوں کے نام پر) سائبہ (جانور) چھوڑے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین (عہد) کو تبدیل کیا، اور میں نے اسے اکثم بن ابی الجون کے سب سے زیادہ مشابہ پایا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اکثم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کی مشابہت مجھے کوئی نقصان پہنچائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یقیناً تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 9004
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس بن المنذر، وأبو سلمة هو ابن عبد الرحمن بن عوف» [ترقيم الرساله 9004] [ترقيم الشركة 8895] [ترقيم العلميه 8789]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس بن المنذر، وأبو سلمة هو ابن عبد الرحمن بن عوف.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند محمد بن عمرو کی وجہ سے حسن ہے، اور وہ (محمد) ابن علقمہ اللیثی ہیں۔ ابو حاتم رازی سے مراد محمد بن ادریس بن المنذر ہیں، اور ابو سلمہ سے مراد ابن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (7490) من طريق الفضل بن موسى عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد. وفيه: عمرو بن لحي بن قمعة. وأما تكنيته بأبي عمرو فلم ترد إلَّا عند المصنف ولم يذكر أحد له كنية.
حوالہ / مصدر: اور اسے ابن حبان (7490) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے، محمد بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اس میں "عمرو بن لحی بن قمعہ" (کا نام) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: رہی بات اس کی کنیت "ابو عمرو" ہونے کی، تو یہ مصنف (حاکم) کے علاوہ کہیں وارد نہیں ہوئی اور کسی نے اس کی کنیت ذکر نہیں کی۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 14 / (8787)، والبخاري (3521)، ومسلم (2856) (51)، والنسائي (11091)، وابن حبان (6260) من طريق سعيد بن المسيب، والبخاري (3520)، ومسلم (2856) (50) من طريق أبي صالح السمان، كلاهما عن أبي هريرة. ولم يذكرا فيه أكثم بن أبي الجون وشَبَهه بعمرو بن لحي.
حوالہ / مصدر: اور اسے مختصراً امام احمد (8787/14)، بخاری (3521)، مسلم (2856-51)، نسائی (11091)، اور ابن حبان (6260) نے سعید بن المسیب کے طریق سے؛ اور بخاری (3520) و مسلم (2856-50) نے ابو صالح السمان کے طریق سے؛ دونوں نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔ اور ان دونوں نے اس میں اکثم بن ابی الجون اور عمرو بن لحی کے ساتھ اس کی مشابہت کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 9004 سے ماخوذ ہے۔