المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ : " سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ " باب: رسولُ اللہ ﷺ رات کے وقت سجدۂ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی قدرت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں کھولیں۔
حدیث نمبر: 897
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا خالد، عن أبي العاليَة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول في سجودِ القرآن بالليل: "سَجَدَ وجهي للذي خَلَقَه، وشَقَّ سمعَه وبصرَه بحَولِه وقوَّتِه، فتبارَكَ اللهُ أحسنُ الخالقين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 802 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.» ”میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں بنائیں، پس بہت بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره دون تقييده بسجود القرآن، وهذا إسناد منقطع كما سبق بيانه.
درجۂ حدیث: (1) سجدہ تلاوت کی تخصیص کے بغیر "صحیح لغیرہ" ہے، مگر سند منقطع ہے۔
وأخرجه الترمذي (580) و (3425)، والنسائي (718) من طريقين عن عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (580، 3425) اور نسائی (718) نے عبدالوہاب الثقفی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) سجدہ تلاوت کی تخصیص کے بغیر "صحیح لغیرہ" ہے، مگر سند منقطع ہے۔
وأخرجه الترمذي (580) و (3425)، والنسائي (718) من طريقين عن عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (580، 3425) اور نسائی (718) نے عبدالوہاب الثقفی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 897 سے ماخوذ ہے۔