حدیث نمبر: 8929
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيَه وأبو بكر أحمد بن جعفر ببغداد قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل [حدثنا أَبي] (1) حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، عن خالدٍ الحذَاء قال: سمعت أبا عثمان النَّهْديَّ يُحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال: "يُرفع للرجل (2) الصحيفةُ يومَ القيامة حتى يُرَى أنه [ناجٍ] (3) فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى حسنةٌ، ويُزادُ عليه من سيِّئاتِهم". قال: فقلت له - أو قال: فقال له عاصم -: عمَّن يا أبا عثمان؟ فقال: عن سلمان وسعدٍ وابن مسعود، حتى عدَّ ستةً أو سبعةً من أصحاب رسول الله ﷺ. قال شعبةُ: فسألتُ عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيه عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غياث: أنه سمع أبا عثمانَ يُحدِّث بهذا عن سلمانَ وأصحابِ رسول الله ﷺ (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سلمان فارسی، سیدنا سعد اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم سمیت رسول اللہ ﷺ کے چھ یا سات صحابہ کرام سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کا نامہ اعمال پیش کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ سمجھے گا کہ وہ نجات پا گیا ہے، مگر پھر لوگوں کے حقوق اور ان پر کیے گئے مظالم اس کا تعاقب کریں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور ان کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8929
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8929] [ترقيم الشركة 8820] [ترقيم العلميه 8714]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هذه زيادة لم ترد في النسخ الخطية ولا بدَّ منها، فإنَّ عبد الله بن أحمد لم يدرك أبا داود - وهو سليمان ابن داود الطيالسي - بين وفاتيهما ما يقرب من تسعين سنة، ويغلب على ظننا أنَّ الواسطة بينهما أحمد بن حنبل.
فنی نکتہ / علّت: یہ اضافہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا مگر یہ ناگزیر ہے، کیونکہ عبد اللہ بن احمد نے ابو داود - جو کہ سلیمان بن داود طیالسی ہیں - کا زمانہ نہیں پایا؛ ان دونوں کی وفات کے درمیان تقریباً نوے سال کا فاصلہ ہے۔ ہمارا غالب گمان یہی ہے کہ ان دونوں کے درمیان واسطہ "امام احمد بن حنبل" ہیں۔
(2) في النسخ الخطية: الرجل، والصواب: للرجل، كما سلف برقم (2299).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "الرجل" ہے، جبکہ درست "للرجل" ہے، جیسا کہ پہلے نمبر (2299) پر گزر چکا ہے۔
(3) لفظ "ناج" سقط من النسخ الخطية هنا، وثبت فيما سلف، وقوله: "حتى يرى أنه" سقط من (ز) و (ب) أيضًا، وأثبتناه من (ك) و (م).
نوٹ / توضیح: لفظ "ناج" (نجات پانے والا) یہاں قلمی نسخوں سے گر گیا ہے، جبکہ گزشتہ مقامات پر موجود تھا۔ اور الفاظ "حتى يرى أنه" بھی نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہیں، ہم نے انہیں نسخہ (ک) اور (م) سے ثابت کیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. وقد سلف عند المصنف برقم (2299) من طريق إسحاق بن منصور عن أبي داود الطيالسي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (2299) پر اسحاق بن منصور عن ابی داود طیالسی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8929 سے ماخوذ ہے۔