حدیث نمبر: 8930
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد بن مَسلَمة (1) الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: بَلَغَني عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ حديثٌ (2) سمعه من رسول الله ﷺ في القِصَاص لم أسمَعْه منه، فابتعَتُ بعيرًا فَشَدَدتُ رَحْلي، ثم سِرتُ إليه شهرًا حتى قدمتُ مصرَ - أو قال: الشام - فأتيت عبدَ الله بنَ أُنيس، فقلت: حديثٌ بَلَغَني عنك تحدِّثُ به، سمعتَه من رسول الله ﷺ ولم أسمعه في القصاص، خَشِيتُ أن أموتَ قبل أن أسمعَه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يوم يُحشَرُ العبادُ - أو قال: الناس - عُراةً غُرْلًا بُهْمًا ليس معهم شيءٌ، ثم يناديهم بصوتٍ يَسمعُه من بَعُدَ كما يسمعُه من قَرُبَ: أنا المَلِكُ، أنا الدَّيَّانُ، لا ينبغي لأحدٍ من أهل الجنة أن يدخلَ الجنة ولأحدٍ من أهل النار عليه مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، ولا ينبغي لأحدٍ من أهل النار أن يدخلَ النارَ ولأحدٍ من أهل الجنة [عنده] مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، حتى اللَّطْمةُ"، قال: قلنا: كيف وإنَّا إِنَّما نأتي الله ﷿ عُراةً حُفاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قال: الحَسَناتُ والسَّيِّئَاتُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے قصاص کے متعلق ایک حدیث معلوم ہوئی جو انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنی تھی، چنانچہ انہوں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ایک ماہ کی مسافت طے کر کے مصر (یا شام) پہنچے اور سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: مجھے آپ سے ایک حدیث کے متعلق معلوم ہوا ہے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے لیکن میں نے قصاص کے بارے میں اسے نہیں سنا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے سنے بغیر کہیں میری موت نہ آ جائے، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس دن بندوں کو - یا فرمایا: لوگوں کو - اس حال میں محشور کیا جائے گا کہ وہ ننگے بدن، غیر مختون اور «بُهْمًا» (خالی ہاتھ) ہوں گے، ان کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسی آواز میں پکارے گا جسے دور والا بھی ویسے ہی سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: میں بادشاہ ہوں، میں جزا و سزا دینے والا ہوں، کسی جنتی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جبکہ کسی دوزخی کا اس پر کوئی حق (مظلمہ) باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، اور کسی دوزخی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ دوزخ میں داخل ہو جائے جبکہ کسی جنتی کا اس پر کوئی حق باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، یہاں تک کہ ایک تھپڑ کا بھی (بدلہ لیا جائے گا)“، ہم نے عرض کیا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ہم اللہ کے حضور ننگے بدن اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ بدلہ) نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8930
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل القاسم بن عبد الواحد وابن عقيل. ومحمد بن مسلمة» [ترقيم الرساله 8930] [ترقيم الشركة 8821] [ترقيم العلميه 8715]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سلمة.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "سلمہ" بن گیا ہے۔
(2) في النسخ الخطية حديثًا، بالنصب، وهو خطأ.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "حدیثاً" (حالتِ نصب میں) لکھا ہے، جو کہ (نحوی اعتبار سے) غلط ہے۔
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل القاسم بن عبد الواحد وابن عقيل. ومحمد بن مسلمة - وإن كان فيه لين - متابَع، فقد سلف الحديث عند المصنف برقم (3679) من طريق سعيد بن مسعود عن يزيد بن هارون.
درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی روشنی میں یہ سند "حسن" ہے، جس کی وجہ قاسم بن عبد الواحد اور (عبد اللہ) بن عقیل ہیں۔ محمد بن مسلمہ - اگرچہ ان میں کچھ کمزوری (لین) ہے - لیکن وہ "مُتابَع" (یعنی ان کی تائید موجود) ہے۔
حوالہ / مصدر: چنانچہ یہ حدیث مصنف کے ہاں پہلے نمبر (3679) پر سعید بن مسعود عن یزید بن ہارون کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وكذلك رواه أحمد بن حنبل في "مسنده" (25/ (16042) عن يزيد بن هارون بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے احمد بن حنبل نے اپنی "مسند" (25/ 16042) میں یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر تتمة تخريجه والكلام فيه هناك.
نوٹ / توضیح: اس کی مکمل تخریج اور اس پر کلام وہاں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8930 سے ماخوذ ہے۔