حدیث نمبر: 8900
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا يزيد بن هارون وعلي بن عاصم قالا: حدثنا بَهز بن حكيم بن معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ - واللفظُ له حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر قال: سمعتُ بهزَ بنَ حَكيم يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه قال: قلت: يا رسول الله، أين تأمرُني؟ خِرْ لي، قال: فنَحَا بيدِه نحوَ الشام، فقال: "إنَّكم محشورون رجالًا ورُكْبانًا وتُجَرُّون على وجوهكم هاهنا"؛ ونَحا بيدِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کہاں (جانے کا) حکم دیتے ہیں؟ میرے لیے (کسی جگہ کا) انتخاب فرمائیں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ پیدل، سوار اور یہاں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاتے ہوئے محشور کیے جاؤ گے“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو قزعہ سوید بن حجیر نے بھی حکیم بن معاویہ سے بہز کی روایت کی طرح روایت کیا ہے، اگرچہ بہز بذاتِ خود ثقہ اور مامون ہیں اور ان کی روایت میں کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل بهز بن حَكيم وأبيه حكيم» [ترقيم الرساله 8900] [ترقيم الشركة 8791] [ترقيم العلميه 8686]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل بهز بن حَكيم وأبيه حكيم.
درجۂ حدیث: اس کی سند بہز بن حکیم اور ان کے والد حکیم کی وجہ سے حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20031)، والترمذي (2424) و (3143) من طريق يزيد بن هارون بهذا الإسناد. وقال الترمذي: هذا حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33 / 20031) اور ترمذی (2424، 3143) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔
وأخرجه أحمد (20050) عن يحيى بن سعيد القطّان عن بهز بن حَكيم به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (20050) نے یحییٰ بن سعید القطان عن بہز بن حکیم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اگلی روایت بھی دیکھیں۔
وسلف بأطول مما هنا برقم (3687) من طريق أبي قزعة الباهلي عن حكيم بن معاوية.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث یہاں مذکور الفاظ سے زیادہ تفصیل کے ساتھ نمبر (3687) کے تحت ابو قزعہ الباہلی عن حکیم بن معاویہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8900 سے ماخوذ ہے۔