المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
النَّاسُ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن لوگ تین گروہوں کی شکل میں محشر کی طرف لائے جائیں گے
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني الوليد بن جُمَيع القُرشي، حدثني أبو الطُّفَيل عامر بن واثلةَ، عن حُذيفة بن أَسِيد، عن أبي ذرٍّ قال: حدثني الصادقُ المصدوقُ: ﷺ "أنَّ الناس يُحشرون ثلاثةَ أفواج: فوجًا طَاعِمِينَ كاسِينَ راكبينَ، وفوجًا يَمشُون ويَسعَوْن، وفوجًا تَسحَبُهم الملائكةُ على وجوهِهم إلى النار". فقلنا: با أبا ذر، قد عَرفْنا هؤلاء وهؤلاء، فما بالُ الذين يمشون ويَسعَون؟ قال: يُلقي اللهُ الآفةَ على الظَّهْر فلا ظهرَ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ”صادق و مصدوق“ (سچے اور جس کی سچائی کی تصدیق کی گئی ہو) ﷺ نے بیان فرمایا: ”لوگ تین گروہوں کی صورت میں محشور کیے جائیں گے: ایک گروہ وہ ہوگا جو کھاتے پیتے، لباس پہنے ہوئے اور سوار ہوں گے، دوسرا گروہ وہ ہوگا جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جنہیں فرشتے ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے۔“ ہم نے عرض کیا: اے ابوذر! ہم نے پہلے اور تیسرے گروہ کو تو پہچان لیا، لیکن ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر کوئی آفت بھیج دے گا جس کی وجہ سے کوئی سواری باقی نہیں رہے گی۔
یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث ان شاء اللہ حسن ہے، اس پر کلام مصنف کے ہاں نمبر (3429) کے تحت گزر چکا ہے جہاں انہوں نے اسے یزید بن ہارون عن الولید بن جمیع کے طریق سے روایت کیا تھا۔