المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
النَّاسُ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن لوگ تین گروہوں کی شکل میں محشر کی طرف لائے جائیں گے
حدیث نمبر: 8901
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد ابن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه (2) قال: سمعت رسول الله ﷺ: يقول: "يُحشَرون هاهنا حُفاةً مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوههم، تُعرَضون على الله على أَفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أوّل ما يُعرِبُ عن أحدِكم فَخِذُه (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ یہاں ننگے پاؤں، پیدل، سوار اور اپنے چہروں کے بل (گھسیٹتے ہوئے) اکٹھے کیے جائیں گے، تم اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جاؤ گے کہ تمہارے مونہوں پر «الفِدَامُ» (کپڑے کے ٹکرے یا مہریں جو بولنے سے روک دیں) ہوں گی، اور تم میں سے سب سے پہلے جو عضو تمہاری طرف سے کلام کرے گا وہ ران ہوگی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية حكيم بن معاوية عن جده عن أبيه، بزيادة "عن جده" وهو خطأه.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "حکیم بن معاویہ عن جدہ عن ابیہ" لکھا ہے، یہاں "عن جدہ" (اپنے دادا سے) کا اضافہ غلطی ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية. وقد سلف برقم (3687) من طريق الحسن بن موسى الأشيب عن حماد بن سلمة.
درجۂ حدیث: حکیم بن معاویہ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (3687) پر حسن بن موسیٰ الاشیب عن حماد بن سلمہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "حکیم بن معاویہ عن جدہ عن ابیہ" لکھا ہے، یہاں "عن جدہ" (اپنے دادا سے) کا اضافہ غلطی ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية. وقد سلف برقم (3687) من طريق الحسن بن موسى الأشيب عن حماد بن سلمة.
درجۂ حدیث: حکیم بن معاویہ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (3687) پر حسن بن موسیٰ الاشیب عن حماد بن سلمہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8901 سے ماخوذ ہے۔