حدیث نمبر: 8828
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن جدِّه: أن رسول الله ﷺ ذكر الدَّجال فقال: "إنْ يَخرج وأنا فيكم، فأنا حَجيجُكم، وإن يَخرجْ ولست فيكم، فكلُّ امْرِيءٍ حَجِيجُ نفسِه، واللهُ خليفتي على كلِّ مسلم، ألا وإنه مطموسُ العين كأنها عينُ عبدِ العُزَّى بن قَطَن الخُزاعي، ألا فإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مسلم، فمن لَقِيَه منكم فليَقرأْ بفاتحة الكهف، يخرجُ من بين الشام والعراق، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله اثْبُتوا" ثلاثًا، فقيل: يا رسول الله، فما مُكْثُه في الأرض؟ قال: "أربعون يومًا: يومٌ كالسَّنة، ويومٌ كالشهر، ويومٌ كالجُمعة، وسائرُها كأيامِكم" قالوا يا رسول الله، فكيف نصنعُ بالصلاة يومئذٍ، صلاةُ يومٍ أو نَقدُرُ؟ قال: "بل تَقدُرون (1) " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8614 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جبیر بن نفیر اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں نکلا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو ہر شخص خود اپنا دفاع کرنے والا ہوگا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان) ہے، خبردار! وہ کانی آنکھ والا ہے گویا کہ اس کی آنکھ عبد العزیٰ بن قطن خزاعی کی آنکھ کی طرح ہے، آگاہ رہو! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے اسے چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور دائیں بائیں خوب فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا“ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کتنا عرصہ قیام کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس دن: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس (طویل) دن میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے، کیا ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی یا ہم وقت کا اندازہ کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم (وقت کا) اندازہ لگانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8828
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، لكن من حديث جبير بن نفير عن النواس بن سِمعان عن النبي ﷺ، فقد خولف فيه معاوية بن صالح كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8828] [ترقيم الشركة 8717] [ترقيم العلميه 8614]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: تقدروا، والجادة إثبات النون.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نون کے بغیر) "تقدروا" ہے، جبکہ درست "نون" کا اثبات ہے۔
(2) حديث صحيح لكن من حديث جبير بن نفير عن النواس بن سِمعان عن النبي ﷺ، فقد خولف فيه معاوية بن صالح كما سيأتي.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ جبیر بن نفیر عن النواس بن سمعان عن النبی ﷺ کی حدیث سے (معروف) ہے، کیونکہ اس میں معاویہ بن صالح کی مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 62/ 196 من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (62/ 196) میں حرملہ بن یحییٰ عن عبداللہ بن وہب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أوله مختصرًا البزار (3381 - كشف الأستار)، وابن عساكر 62/ 196 من طريق أبي صالح عبد الله بن صالح، عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اس کا ابتدائی حصہ مختصراً بزار (3381 - کشف الاستار) اور ابن عساکر (62/ 196) نے ابو صالح عبداللہ بن صالح عن معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد رواه يحيى بن جابر الطائي - وهو من ثقات الشاميين - عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن النواس بن سمعان، فجعله من حديث النواس، وهو المحفوظ الذي اعتمده الأئمة في كتبهم كمسلم وأصحاب "السنن" وغيرهم، وقد سلف من هذا الوجه عند المصنف برقم (8718).
فنی نکتہ / علّت: اسے یحییٰ بن جابر الطائی—جو کہ ثقات شامیین میں سے ہیں—نے عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر عن ابیہ عن النواس بن سمعان سے روایت کیا ہے، اور اسے "نواس" کی حدیث قرار دیا ہے؛ اور یہی وہ "محفوظ" طریقہ ہے جس پر ائمہ (مسلم اور اصحابِ سنن وغیرہ) نے اپنی کتب میں اعتماد کیا ہے۔ یہ مصنف کے ہاں اسی سند سے نمبر (8718) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8828 سے ماخوذ ہے۔