المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْعُلَمَاءِ زَمَانٌ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ باب: علماء پر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے نزدیک موت سونے (دولت) سے زیادہ محبوب ہوگی
حدیث نمبر: 8796
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن يزيد بن سِنَان، حدثنا أبي، حدثنا سليمان الأعمَش، عن شَقِيق، عن حُذَيفة بن اليَمَان قال: قال رسول الله ﷺ: "يوشكُ الله أن يَملأَ أيديَكم من العجم، ويجعلَهم أُسْدًا لا يَفِرُّون، فيضربون رقابَكم ويأكلون فَيئَكم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8583 - بل محمد بن زيد بن سنان واه كأبيهحافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، اور انہیں ایسے شیر بنا دے گا جو (میدانِ جنگ سے) بھاگیں گے نہیں، پس وہ تمہاری گردنیں ماریں گے اور تمہارے اموالِ فئے کھائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف بمرّة لضعف محمد بن يزيد بن سنان وأبيه، وأبوه أشدُّهما ضعفًا، وبهما أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". ويغني عنه حديث سمرة بن جندب السالف برقم (8775).
درجۂ حدیث: اس کی سند بالکل (انتہائی) ضعیف ہے، جس کی وجہ محمد بن یزید بن سنان اور ان کے والد (یزید بن سنان) کا ضعف ہے، اور ان کے والد ضعف میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں ان دونوں راویوں کی وجہ سے ہی اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ سمرہ بن جندب کی گزشتہ حدیث نمبر (8775) اس سے کفایت کرتی ہے (یعنی وہ اصل ہے۔)
وأما حديث حذيفة، فقد أخرجه البزار (2882)، وأبو نعيم في "أخبار أصبهان" 1/ 13 من طريق إبراهيم بن هانئ، عن محمد بن يزيد بن سنان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: جہاں تک حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو اسے بزار (2882) اور ابو نعیم نے "اخبار اصبہان" (1/ 13) میں ابراہیم بن ہانی عن محمد بن یزید بن سنان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند بالکل (انتہائی) ضعیف ہے، جس کی وجہ محمد بن یزید بن سنان اور ان کے والد (یزید بن سنان) کا ضعف ہے، اور ان کے والد ضعف میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں ان دونوں راویوں کی وجہ سے ہی اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ سمرہ بن جندب کی گزشتہ حدیث نمبر (8775) اس سے کفایت کرتی ہے (یعنی وہ اصل ہے۔)
وأما حديث حذيفة، فقد أخرجه البزار (2882)، وأبو نعيم في "أخبار أصبهان" 1/ 13 من طريق إبراهيم بن هانئ، عن محمد بن يزيد بن سنان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: جہاں تک حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو اسے بزار (2882) اور ابو نعیم نے "اخبار اصبہان" (1/ 13) میں ابراہیم بن ہانی عن محمد بن یزید بن سنان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8796 سے ماخوذ ہے۔