حدیث نمبر: 8795
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهمي (3)، حدثنا هشام بن حسَّان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي عُبيدة قال: كنت أسألُ الناسَ عن حديث عَدِيِّ بن حاتم وهو إلى جنبي بالكوفة، فأتيتُه، فقلت: حديثٌ حُدِّثتُه عنك، فحدِّثني به، قال: لما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كرهتُه أشدَّ ما كرهتُ شيئًا قطُّ، فأتيتُ أقصى أرض العرب فكرهتُه، ثم أتيتُ أرضَ الرُّوم وكنت أكرهَ له من كراهيَتي لما قبلُ أو أشدَّ، فقلت: لآتيَنَّ هذا الرجلَ، فإن كان صادقًا فلأَسمعنَّ منه، وإن كان كاذبًا فما هو بضارِّي، فأتيتُه فسألته فقال: "إنك لَتسألُ عن شيءٍ لا يَحِلُّ لك في دِينَك" فكأني رأيت لها عليَّ غَضَاضةً، فقال: "يا عَدِيَّ بنَ حاتم، أسلِمْ تَسلَمٍ" مرتين، فقال: "قد أُراني - أو قد أظنُّ" أو كما قال رسول الله ﷺ (4)، فقال رسول الله ﷺ: "فلعلَّه إنما يمنعُك عن الإسلام أنك تَرى بمن حَوْلي خَصَاصةً، وأنك ترى الناسَ علينا أَلْبًا" ثم قال: "هل رأيتَ الحِيرةَ؟ قلت: لم أرها، وقد عرفتُ مكانها، قال: "فَلَيُوشِكنَّ أنَّ الظَّعينةَ تَرحَلُ من الحِيرةِ بغير جوَارٍ حتى تطوفَ بالبيت، ولتُفتحَنَّ علينا كنوزُ كِسرى بن هُرمُز" قلت: كِسرى بنُ هُرمُز؟! قال: "كِسرى بنُ هُرمُز، ويوشكُ أن لا يجدَ الرجلُ صدقةً" (1). [قال]: فرأيتُ الظَّعينةَ ترحلُ، وأَحلِفُ لتُفتحَنَّ الثالثةُ لقول رسول الله ﷺ، وهو الحقُّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8582 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں پوچھتا تھا جبکہ وہ کوفہ میں میرے پہلو ہی میں تھے، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث پہنچی ہے، آپ وہ مجھے خود سنائیں، انہوں نے کہا: جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو میں آپ سے اس قدر نفرت کرتا تھا کہ کسی چیز سے نہ کی ہوگی، چنانچہ میں عرب کی دور دراز زمین کی طرف چلا گیا لیکن وہاں بھی مجھے کراہت ہی رہی، پھر میں ملکِ روم چلا گیا اور وہاں مجھے پہلے سے بھی زیادہ یا اس سے بھی شدید نفرت محسوس ہوئی، پھر میں نے (دل میں) کہا کہ میں ضرور اس شخص کے پاس جاؤں گا، اگر وہ سچا ہوا تو میں اس کی بات سن لوں گا اور اگر وہ جھوٹا ہوا تو وہ میرا کچھ بگاڑ نہ سکے گا، چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کر رہے ہو جو تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہے“، مجھے ایسا لگا کہ آپ ﷺ نے میری کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، پھر آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے“، عدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تمہیں اسلام قبول کرنے سے یہ بات روک رہی ہے کہ تم میرے اردگرد موجود لوگوں میں فقر و فاقہ دیکھ رہے ہو اور یہ دیکھ رہے ہو کہ لوگ ہمارے خلاف ایک ہو چکے ہیں“، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے دیکھا تو نہیں لیکن مجھے اس کے مقام و جگہ کا علم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایک ہودج نشین عورت حیرہ سے کسی محافظ کے بغیر اکیلے چلے گی یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے گی، اور عنقریب ہم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیے جائیں گے“، میں نے (تعجب سے) پوچھا: کسریٰ بن ہرمز؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! کسریٰ بن ہرمز، اور وہ وقت بھی قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا مگر اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا“، عدی کہتے ہیں: میں نے ہودج نشین عورت کو تنہا سفر کرتے دیکھ لیا ہے، اور میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی سچائی کی وجہ سے قسم کھاتا ہوں کہ تیسری بات بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی کیونکہ آپ ﷺ کی بات برحق ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل أبي عبيدة: وهو ابن حذيفة بن اليمان، وقد توبع على أكثر حديثه هذا، فأصل الحديث صحيح» [ترقيم الرساله 8795] [ترقيم الشركة 8685] [ترقيم العلميه 8582]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: البيهقي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں (مخطوطات) میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر "البیہقی" بن گیا ہے۔
(4) يوضحه ما في رواية ابن حبان: "أسلم تسلم، فإني قد أظن - أو قد أُرى، أو كما قال رسول الله ﷺ أنه ما يمنعك أن تسلم … ".
تفصیلِ روایت: اس کی وضاحت ابن حبان کی روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ ہیں: "اسلام لے آؤ محفوظ رہو گے، کیونکہ میرا گمان ہے—یا میرا خیال ہے، یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا—کہ تمہیں اسلام لانے سے نہیں روک رہی مگر یہ بات کہ..."۔
(1) يوضحه ما في رواية أحمد: "وليوشكنَّ أن يبتغي من يقبل مالَه منه صدقةً فلا يجد".
تفصیلِ روایت: اس مفہوم کی وضاحت مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے: "اور قریب ہے کہ انسان ایسے شخص کو تلاش کرے گا جو اس کا مال صدقے کے طور پر قبول کر لے، لیکن وہ (لینے والا) اسے نہیں پائے گا"۔
(2) إسناده حسن من أجل أبي عبيدة: وهو ابن حذيفة بن اليمان، وقد توبع على أكثر حديثه هذا، فأصل الحديث صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں ابوعبیدہ ہیں (جو کہ حذیفہ بن یمان کے بیٹے ہیں)۔
متابعات و شواہد: ان کی اس حدیث کے اکثر حصے پر متابعت (تائید) موجود ہے، لہٰذا حدیث کی اصل "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18260) و 32/ (19385) عن يزيد بن هارون، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أبي عبيدة، عن رجل قال: قلت لعدي … فزاد في الإسناد رجلًا مبهمًا، ورواه عن هشام حمادُ بنُ زيد عند أحمد 32/ (1938)، فلم يذكر فيه هذا الرجل، وهو المحفوظ.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (30/ 18260 اور 32/ 19385) میں یزید بن ہارون عن ہشام بن حسان عن محمد بن سیرین عن ابی عبیدہ کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں (ابو عبیدہ کے بعد) "عن رجل" (ایک آدمی سے) کا واسطہ ہے کہ اس نے کہا: میں نے عدی سے کہا...
فنی نکتہ / علّت: یزید بن ہارون نے سند میں ایک "مبہم راوی" کا اضافہ کیا ہے، جبکہ اسی روایت کو ہشام سے حماد بن زید نے مسند احمد (32/ 1938?) میں بیان کیا ہے تو انہوں نے اس "مبہم شخص" کا ذکر نہیں کیا، اور یہی (حماد بن زید والی) روایت ہی "محفوظ" (راجح) ہے۔
وأخرجه أحمد (18269) و (19378) من طريق عبد الله بن عون، عن محمد بن سيرين، عن ابن حذيفة، عن عدي بن حاتم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18269) اور (19378) میں عبداللہ بن عون عن محمد بن سیرین عن ابن حذیفہ عن عدی بن حاتم کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (18268) و (19384)، وابن حبان (6679) من طريق أيوب السختياني، عن محمد بن سيرين، به - وذكر أحمد في روايته الرجل المبهم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18268 اور 19384) اور ابن حبان نے (6679) میں ایوب سختیانی عن محمد بن سیرین کے طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: البتہ امام احمد نے اپنی اس روایت میں بھی "مبہم راوی" کا ذکر کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (3595) من طريق مُحِلّ بن خليفة، عن عدي بن حاتم.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (3595) میں محل بن خلیفہ عن عدی بن حاتم کے طریق سے اسی طرح (بنحوہ) روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8795 سے ماخوذ ہے۔