حدیث نمبر: 8790
أخبرني أحمد بن محمد بن بالَوَيهِ العَفْصي (1)، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، حدثنا يزيد بن المِقْدام، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: قد رأَيْنا من كلِّ شيءٍ قاله لنا رسولُ الله ﷺ، غيرَ أنه قال: "يقال لرجالٍ يومَ القيامة: اطرَحُوا سِياطَكم وادخلوا جهنَّمَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8577 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کی خبر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دی تھی، سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”قیامت کے دن کچھ مردوں سے کہا جائے گا: اپنے کوڑے پھینک دو اور جہنم میں داخل ہو جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8790
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، وقد وقع فيه عند المصنف وهمٌ حيث سمَّى فيه الراوي عن سعيد بن المسيب يزيدَ بنَ المقدام، وليس في هذه الطبقة من يسمى كذلك، وروى هذا الحديث البزار في "مسنده" (7850) عن محمد بن الأسود العمِّي عن عبد العزيز بن عبد الصمد عن أبي المقدام عن سعيد ...» [ترقيم الرساله 8790] [ترقيم الشركة 8680] [ترقيم العلميه 8577]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: العقبي. وانظر "الأنساب" للسمعاني 8/ 481.
تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "العقبی" بن گیا ہے۔ سمعانی کی "الانساب" (8/481) دیکھیں۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، وقد وقع فيه عند المصنف وهمٌ حيث سمَّى فيه الراوي عن سعيد بن المسيب يزيدَ بنَ المقدام، وليس في هذه الطبقة من يسمى كذلك، وروى هذا الحديث البزار في "مسنده" (7850) عن محمد بن الأسود العمِّي عن عبد العزيز بن عبد الصمد عن أبي المقدام عن سعيد بن المسيب، وسمّاه هشامَ بن زياد وقال: ليس بالقوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔
فنی نکتہ (وہم): اس میں مصنف (حاکم) سے وہم ہوا ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کرنے والے راوی کا نام "یزید بن مقدام" لکھ دیا ہے، حالانکہ اس طبقے میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے۔ بزار نے یہ حدیث اپنی "مسند" (7850) میں محمد بن اسود عمی سے، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے، انہوں نے ابو المقدام سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے اور اس (ابو المقدام) کا نام "ہشام بن زیاد" بتایا ہے اور کہا: "وہ قوی نہیں ہے"۔
قلنا: إن كان ما عند البزار محفوظًا، فإنَّ هشامًا هذا متروك الحديث.
جرح و تعدیل: ہم (محقق) کہتے ہیں: اگر بزار والی روایت محفوظ ہے، تو یہ "ہشام" (بن زیاد) متروک الحدیث ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8790 سے ماخوذ ہے۔