المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ باب: دین پر اس وقت آنسو بہاؤ جب اس کے حکمران نااہل لوگ بن جائیں
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عَمْرو العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد، عن داود بن أبي صالح قال: أَقبل مروانُ يومًا، فوَجَدَ رجلًا واضعًا وجهَه على القبر، فأَخذ برَقَبتِه، وقال: أتدري ما تصنعُ؟ قال: نعم فأقبل عليه، فإذا هو أبو أيوب الأنصاريُّ، فقال: جئتُ رسولَ الله ﷺ ولم آتِ الحَجَر، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تَبكُوا على الدِّين إذا وَلِيَه أهلُه، ولكن ابكُوا عليه إذا وَلِيَه غيرُ أهلِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8571 - صحيحداود بن ابی صالح سے روایت ہے کہ ایک دن مروان آیا تو اس نے ایک شخص کو اپنا چہرہ (نبی کریم ﷺ کی) قبر مبارک پر رکھے ہوئے پایا، مروان نے اس شخص کو گردن سے پکڑا اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ جب وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے (مروان کے جواب میں) فرمایا: ہاں (مجھے بخوبی علم ہے)، میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دین پر اس وقت آنسو نہ بہاؤ جب اس کے ذمہ دار اس کے اہل (صالح اور حق دار) لوگ ہوں، بلکہ اس وقت دین پر گریہ و زاری کرو جب اس کے والی و وارث وہ لوگ بن جائیں جو اس کے اہل نہ ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
جرح و تعدیل: داود بن ابی صالح کے بارے میں ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں کہا: "یہ معروف نہیں ہے" (لا یعرف)۔ اور کثیر بن زید (جو اسلمی ہیں) ان کے بارے میں اختلاف ہے اور ان میں کمزوری (لین) پائی جاتی ہے۔ نیز یہ متن نکارت والا ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (23585) عن عبد الملك بن عمرو العقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ: اسے احمد (38/23585) نے عبدالملک بن عمرو عقدی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔