المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَنْ تَنْفَكُّوا بِخَيْرٍ مَا اسْتَغْنَى أَهْلُ بَدْوِكُمْ عَنْ أَهْلِ حَضَرِكُمْ . باب: تم اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی تمہارے شہریوں سے بے نیاز رہیں گے
حدیث نمبر: 8761
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن أبي قَبِيل، سمع عبدَ الله بن عمرو يقول: كنا عند رسول الله ﷺ، فسُئِلَ: أيُّ المدينتين تُفتَحُ أولًا؟ يعني القُسطنطِينيّةَ، والرُّومِيةَ، فقال النبي ﷺ: "مدينةُ هِرَقلَ تُفتَحُ أولًا"؛ يعني القُسطَنطِينيّة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8550 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ (روم کے) ان دو شہروں میں سے کون سا پہلے فتح ہوگا؟ یعنی قسطنطنیہ یا رومیہ، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا“ یعنی قسطنطنیہ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ليِّن كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (8506).
درجۂ حدیث: اس کی سند لین (کمزور) ہے جیسا کہ گزشتہ روایت نمبر (8506) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1344) عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1344) میں عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي من وجه آخر عن ابن وهب برقم (8875).
نوٹ: یہ روایت ابن وہب سے ایک دوسرے طریق سے آگے نمبر (8875) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند لین (کمزور) ہے جیسا کہ گزشتہ روایت نمبر (8506) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1344) عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1344) میں عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي من وجه آخر عن ابن وهب برقم (8875).
نوٹ: یہ روایت ابن وہب سے ایک دوسرے طریق سے آگے نمبر (8875) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8761 سے ماخوذ ہے۔