المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ إِحْيَاءِ الْأَمْوَاتِ وَنَفْخِ الصُّورِ باب: مردوں کو زندہ کیے جانے اور صور پھونکے جانے کا تذکرہ
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني أبو شُرَيح عبد الرحمن بن شُريح قال: سمعت سعيد بن أبي شِمْر السَّبَئي يقول: سمعت سفيان بن وهب الخَوْلاني يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تأتي المئةُ وعلى ظهرِها أحدٌ باقٍ". قال: فحدَّثتُ بها حُجَيرة (2)، قال: فدخل عبدُ الرحمن بن حُجَيرة على عبد العزيز بن مروان، فحُمِلَ سفيانُ وهو شيخٌ كبيرٌ فسأله عبدُ العزيز عن هذا الحديث، فحدَّثَه، فقال عبد العزيز: فلعلَّه يعني: لا يبقى أحدٌ ممَّن كان معه إلى رأس المئة؟! فقال سفيان: هكذا سمعتُ رسول الله ﷺ يقول (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والدليلُ الواضح على صِحَّة قولِ أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁ لأبي مسعود عُقْبة بن عمرو الأنصاري، وقولِ عبد العزيز بن مروان لسفيان بن وهب الخَوْلاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8521 - صحيحسیدنا سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سو سال کا عرصہ نہیں آئے گا مگر زمین کی پشت پر (موجودہ لوگوں میں سے) کوئی بھی باقی نہیں رہے گا“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات حجیرہ سے بیان کی، پھر عبداللہ بن حجیرہ، عبدالعزیز بن مروان کے پاس گئے، سفیان رضی اللہ عنہ کو بھی بلوایا گیا جبکہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، عبدالعزیز نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے بیان کر دیا، عبدالعزیز نے کہا: شاید آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ موجود تھے ان میں سے سو سال مکمل ہونے پر کوئی باقی نہیں رہے گا؟ سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس بات کی واضح دلیل کہ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کو جو بات کہی اور عبدالعزیز بن مروان نے جو سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ سے کہا وہ درست تھا، وہ درج ذیل حدیث ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ: مطبوعہ نسخے میں "ابن حجیرہ" (لفظ ابن کے اضافے کے ساتھ) ہے، جبکہ ہمارے قلمی نسخوں میں یہ اضافہ نہیں ہے۔ تاہم دونوں طرح درست ہے، کیونکہ ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" (3503) میں حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی روایت نے واضح کر دیا ہے کہ سعید نے یہ حدیث "حجیرہ" کو بیان کی تھی اور اس وقت حجیرہ کے ساتھ ان کے بیٹے "عبد الرحمٰن" بھی موجود تھے۔ (لہٰذا باپ بیٹے دونوں کا احتمال ہے)۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن شريح.
درجۂ حدیث: عبد الرحمٰن بن شریح کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن عبد الحكم في "فتوح مصر" ص 185 و 523، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/ 511، وابن قانع في "معرفة الصحابة" 1/ 315، والطبراني في "الكبير" (6405) و (6406)، وأبو الفضل الزهري في "حديثه" (236)، وابن منده في "معرفة الصحابة" ص 770 - 771، وكذا أبو نعيم (3503) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وبعضهم لا يذكر فيه قصة حمل سفيان إلى عبد العزيز بن مروان.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عبد الحکم نے "فتوح مصر" (ص 185، 523)، یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (2/511)، ابن قانع نے "معرفۃ الصحابہ" (1/315)، طبرانی نے "الکبیر" (6405، 6406)، ابو الفضل زہری نے اپنی "حدیث" (236)، ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابہ" (ص 770-771) اور اسی طرح ابو نعیم (3503) نے عبد اللہ بن وہب سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے سفیان کو (اٹھا کر) عبد العزیز بن مروان کے پاس لے جانے والا قصہ ذکر نہیں کیا۔