حدیث نمبر: 8730
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي وأبو مُسلِم المسيَّب بن زهير الضَّبّي (1) قالا: حدثنا أبو جعفر عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا مُطرِّف بن طَريف، عن المِنهال بن عمرو، عن نُعيم بن دِجَاجة قال: كنت جالسًا عند عليٍّ فجاء عُقْبةُ أبو مسعود، فقال له علي: يا فَرُّوخُ (2)، أنت القائلُ؟ أو أمَا إنك المُفْتي تُفتي الناس؟ قال: أمَا إني لأُخبِرهم الآخِرَ، والآخِرُ شرٌّ، قال: فحدَّثنا ما سمعتَ رسول الله ﷺ يقول في المئة، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تكونُ مئةُ سنةٍ وعلى الأرض عينٌ تَطرِفُ"، فقال: إنك قد أخطأتَ، وأخطأتَ في أول فَتْواكَ، إنما ذلك لمن هو يومئذٍ حيٌّ، وهل الرَّخاءُ والفَرَجُ إلَّا بعد المئة؟! (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8520 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا نعیم بن دجاجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عقبہ ابومسعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے (محبت بھرے لہجے میں) فرمایا: ”اے فروخ! کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ یا کیا تم لوگوں کو یہ فتویٰ دیتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں تو انہیں انجام کے متعلق خبر دیتا ہوں اور انجام برا ہے“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں وہ بات سناؤ جو تم نے سو سال کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے“، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سو سال کا عرصہ نہیں گزرے گا مگر زمین پر کوئی بھی آنکھ جھپکنے والا (زندہ انسان) باقی نہیں رہے گا“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم سے غلطی ہوئی ہے، اور تم نے اپنے پہلے فتوے میں بھی غلطی کی تھی، آپ ﷺ کی مراد تو صرف ان لوگوں سے تھی جو اس دن (روئے زمین پر) زندہ تھے، اور کیا خوشحالی اور تنگی سے نجات سو سال کے بعد ہی نہیں ہونی؟!“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل نعيم بن دجاجة» [ترقيم الرساله 8730] [ترقيم الشركة 8623] [ترقيم العلميه 8520]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) انظر تعليقنا بشأن هذه النسبة على الحديث السالف رقم (4734).
نوٹ / توضیح: اس نسبت کے بارے میں ہمارا تعلیقی نوٹ گزشتہ حدیث نمبر (4734) پر دیکھیں۔
(2) في النسخ الخطية: دهن يا فروخ، بزيادة "دهن"، ولم نتبين معنى هذا الحرف ولم يرد عند غير المصنف، وأغلب الظن أنه محرَّف عن كلمة "ونهض" كما وقع عند الطحاوي في "مشكل الآثار" (372)، فقد رواه عن فهد بن سليمان عن النفيلي بهذا الإسناد وفيه: فقال له علي ونهض: يا فرّوخ.
فنی نکتہ / تحریف: قلمی نسخوں میں الفاظ "دھن یا فروخ" ہیں (لفظ "دھن" کے اضافے کے ساتھ)۔ اس لفظ کا معنی ہم پر واضح نہیں ہوا اور مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں یہ نہیں آیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ لفظ "وَنَھَضَ" (اور وہ کھڑے ہوئے) سے بگڑ کر (محرف ہو کر) ایسا بن گیا ہے، جیسا کہ طحاوی کی "مشکل الآثار" (372) میں موجود ہے۔ انہوں نے اسے فہد بن سلیمان عن النفیلی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں ہے: "پس علی (رضی اللہ عنہ) نے اس سے فرمایا اور وہ (جانے کے لیے) کھڑے ہوئے: اے فروخ!"
(1) إسناده حسن من أجل نعيم بن دجاجة.
درجۂ حدیث: نعیم بن دجاجہ کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (714) و (718)، وابنه عبد الله (1187) من طريق منصور بن المعتمر، عن المنهال بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (2/714، 718) اور ان کے بیٹے عبد اللہ (1187) نے منصور بن معتمر عن المنہال بن عمرو کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للمرفوع حديث ابن عمر عند البخاري (116) ومسلم (2537)، ولفظه: صلَّى بنا النبي ﷺ العشاء في آخر حياته، فلما سلَّم قام فقال: "أرأيتكم ليلتكم هذه، فإنَّ رأس مئة سنة منها لا يبقى ممَّن هو على ظهر الأرض أحد". وهو في "مسند أحمد" 9/ (5617)، وانظر تتمة شواهده هناك.
متابعات و شواہد: مرفوع حصے کے لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے جو بخاری (116) اور مسلم (2537) میں ہے، اس کے الفاظ ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات کے آخری ایام میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: "کیا تم اپنی اس رات کو دیکھتے ہو؟ پس جو آج روئے زمین پر (زندہ) ہے، سو سال کے اختتام پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔" یہ حدیث مسند احمد (9/5617) میں بھی ہے، اس کے بقیہ شواہد وہاں دیکھیں۔
قوله: "يا فروخ" قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد": يقال: إنه اسم لأبي العجم، فكأنه نسبه إلى أنه عجميّ قليل الفهم.
نوٹ / توضیح: قول "یا فرّوخ" کے بارے میں علامہ سندی نے مسند احمد کے حاشیے میں فرمایا: کہا جاتا ہے کہ یہ عجمیوں (غیر عربوں) کے باپ (جدِ امجد) کا نام ہے، گویا حضرت علی نے اس شخص کو اس کی طرف منسوب کیا کہ وہ عجمی ہے اور کم فہم ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8730 سے ماخوذ ہے۔