حدیث نمبر: 8712
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، حدثني جَبَلَةُ بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَارْةَ، عن عبد الله بن مسعود قال: لما كان ليلةُ أُسرِيَ برسول الله ﷺ، لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى ﵈، فتذاكروا الساعةَ متى هي، فبَدَؤوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فسألوا موسى، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فردُّوا الحديث إلى عيسى، فقال: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيها دون وَجْبتِها، فلا يعلمُها إِلَّا الله ﷿، فذَكَر خروجَ الدجال [وقال]: فأهبِطُ فأقتلُه، ثم يَرجِعُ الناسُ إلى بلادهم، فيَستقبِلُهم يَأجوجُ ومَأجوجُ وهم مِن كل حَدَبٍ يَنسِلُون، لا يمرُّون بماءٍ إِلا شَرِبوه، ولا بشيءٍ إِلَّا أَفَسَدوه، يَجأَرون إليَّ فَأَدعُو الله فيُمِيتُهم، فتَجْوَى (1) الأرضُ من ريحهم، فيَجأَرون إليَّ، فأدعُو الله فيُرسِلُ السماءَ بالماء، فيَحمِلُهم فيَقذِفُ بأجسامِهم في البحر، ثم تُنسَفُ الجبالُ وتُمَدُّ الأرضُ مدَّ الأَدِيم، فعَهدُ الله إليَّ أنه إذا كان ذلك، أنَّ الساعةَ من الناس كالحاملِ المُتِمُّ، لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بوِلادتها ليلًا أو نهارًا. قال العوّامُ: فوجدتُ تصديقَ ذلك في كتاب الله ﷿، ثم قرأ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: 96 - 97] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8502 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ ﷺ کی ملاقات سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، انہوں نے آپس میں قیامت کے متعلق گفتگو کی کہ وہ کب آئے گی، انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے آغاز کیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، مگر ان کے پاس اس کا کوئی علم نہ تھا، پھر انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی اس کا کوئی علم نہ تھا، چنانچہ بات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹ آئی تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے (قیامت کے) واقع ہونے سے پہلے کے حالات سے متعلق تو بتایا ہے، مگر اس کے اصل وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، پھر انہوں نے دجال کے نکلنے کا ذکر کیا (اور فرمایا): پس میں اتروں گا اور اسے قتل کر دوں گا، پھر لوگ اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے تو ان کا سامنا یاجوج اور ماجوج سے ہو گا ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔“ وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے برباد کر دیں گے، پھر لوگ مجھ سے فریاد کریں گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا اور اللہ انہیں موت دے دے گا، پس زمین ان کی بو سے بدبودار ہو جائے گی، پھر لوگ مجھ سے فریاد کریں گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ آسمان سے بارش برسائے گا جو انہیں بہا کر سمندر میں پھینک دے گی، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، پس اللہ کا مجھ سے عہد ہے کہ جب یہ (نشانیاں) پوری ہو جائیں گی تو قیامت لوگوں سے اتنی قریب ہوگی جیسے وہ حاملہ عورت جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ وہ کب اسے اچانک جنم دے دے، رات کو یا دن کو۔ عوّام نے کہا: میں نے اللہ کی کتاب میں اس کی تصدیق پائی ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [سورة الأنبياء: 96-97]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8712
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (3489)» [ترقيم الرساله 8712] [ترقيم الشركة 8605] [ترقيم العلميه 8502]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: فتجفوا، وهو تحريف، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، ومعناه: تُنتِن الأرض من ريحهم.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "فتجفوا" ہے جو کہ تحریف ہے، جبکہ یہاں (مثبت) متن ذہبی کی "تلخیص" سے لیا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے: زمین ان کی بو سے بدبودار ہو جائے گی۔
(2) إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (3489).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ پہلے نمبر (3489) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8712 سے ماخوذ ہے۔