المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَى مُوسَى ، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ باب: دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی
حدیث نمبر: 8704
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد، عن (2) عليِّ بن زيد، عن أَوس بن خالد، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "تخرجُ الدابةُ ومعها عصا موسى وخاتَمُ سليمان، فتَجلُو وجهَ المؤمن بالعصا، وتَخطِمُ أنفَ الكافر بالخاتَم، حتى إنَّ أهل الخِوَانِ يجتمعون، فيقول هذا: يا مؤمنُ، وهذا: يا كافرُ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8494 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والا جانور) ظاہر ہوگا جس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی، پس وہ عصا کے ذریعے مومن کے چہرے کو روشن و منور کر دے گا اور انگوٹھی کے ذریعے کافر کی ناک پر نشان (مہر) لگا دے گا، یہاں تک کہ دسترخوان پر بیٹھنے والے جب جمع ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کو ان الفاظ سے پکاریں گے: اے مومن! اور اے کافر!“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدْعان - وجهالة شيخه أوس بن خالد، ومحمد بن مسلمة ليِّن الحديث إلَّا أنه متابع.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وجہ ضعف "علی بن زید" (ابن جدعان) کا ضعیف ہونا، اور ان کے شیخ "اوس بن خالد" کا مجہول ہونا ہے۔ نیز "محمد بن مسلمہ" لین الحدیث (کمزور) ہیں، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه أحمد في "مسنده" 13/ (7937) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد أيضًا 13 / (7937) و 16 / (10361)، وابن ماجه (4066)، والترمذي (3187) من طرق عن حماد بن سلمة به.
متابعات و شواہد: چنانچہ اسے امام احمد نے "مسند" (13/ 7937) میں یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز اسے امام احمد نے (13/ 7937) اور (16/ 10361)، ابن ماجہ (4066) اور ترمذی (3187) نے حماد بن سلمہ سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "تجلو وجه المؤمن" أي تنوّره، و"تخطم أنف الكافر" أي: تَسِمُه وتكويه، والخِوان: هو ما يوضع عليه الطعام.
نوٹ / توضیح: ان کا قول: "تجلو وجه المؤمن" یعنی وہ مومن کے چہرے کو روشن کرے گا۔ اور "تخطم أنف الكافر" یعنی وہ کافر کی ناک پر نشان لگائے گا اور اسے داغ دے گا۔ اور "الخِوان": وہ برتن (یا دسترخوان) جس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدْعان - وجهالة شيخه أوس بن خالد، ومحمد بن مسلمة ليِّن الحديث إلَّا أنه متابع.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وجہ ضعف "علی بن زید" (ابن جدعان) کا ضعیف ہونا، اور ان کے شیخ "اوس بن خالد" کا مجہول ہونا ہے۔ نیز "محمد بن مسلمہ" لین الحدیث (کمزور) ہیں، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه أحمد في "مسنده" 13/ (7937) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد أيضًا 13 / (7937) و 16 / (10361)، وابن ماجه (4066)، والترمذي (3187) من طرق عن حماد بن سلمة به.
متابعات و شواہد: چنانچہ اسے امام احمد نے "مسند" (13/ 7937) میں یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز اسے امام احمد نے (13/ 7937) اور (16/ 10361)، ابن ماجہ (4066) اور ترمذی (3187) نے حماد بن سلمہ سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "تجلو وجه المؤمن" أي تنوّره، و"تخطم أنف الكافر" أي: تَسِمُه وتكويه، والخِوان: هو ما يوضع عليه الطعام.
نوٹ / توضیح: ان کا قول: "تجلو وجه المؤمن" یعنی وہ مومن کے چہرے کو روشن کرے گا۔ اور "تخطم أنف الكافر" یعنی وہ کافر کی ناک پر نشان لگائے گا اور اسے داغ دے گا۔ اور "الخِوان": وہ برتن (یا دسترخوان) جس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8704 سے ماخوذ ہے۔