المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِذَا بَلَغَتْ بَنُو أُمَيَّةَ أَرْبَعِينَ ، اتَّخَذُوا عِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا باب: جب بنو امیہ کی تعداد چالیس تک پہنچ جائے گی تو وہ اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیں گے
حدیث نمبر: 8687
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي ومحمد بن رافع القُشَيري وسَلَمة بن شبيب المُستَمْلي قالوا: حدثنا عبد الرزاق بن همام الإمامُ الهُمَام (1) قال: حدثني أبي، عن مِيناء مولى عبد الرحمن بن عوف، عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان لا يولدُ لأحدٍ مولودٌ إِلَّا أتي به النبي ﷺ فدعا له، فأُدخل عليه مروانُ بن الحَكَم فقال: "هو الوَزَغُ ابن الوَزَغ، الملعونُ ابن الملعون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (صحابہ کے ہاں) جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا جاتا اور آپ ﷺ اس کے لیے دعا فرماتے، چنانچہ مروان بن حکم کو آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَزَغُ ابن الوَزَغ، الملعونُ ابن الملعون» ”یہ چھپکلی کا بچہ چھپکلی ہے، ملعون کا بیٹا ملعون ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا في (م)، وكأنها في بقية النسخ: المتمام، أو المئمام.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں یوں ہی لکھا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ باقی نسخوں میں یہ لفظ "المتمام" یا "المئمام" ہے۔
(2) إسناده واهٍ، ميناء متروك واتهمه أبو حاتم الرازي بالكذب، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "میناء" متروک ہے اور ابو حاتم رازی نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (317) عن عبد الرزاق، عن أبيه، عن ميناء مرسلًا، لم يذكر فيه عبد الرحمن بن عوف.
حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (317) میں عبدالرزاق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میناء سے مرسلاً روایت کیا ہے، جس میں عبد الرحمن بن عوف کا ذکر نہیں ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں یوں ہی لکھا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ باقی نسخوں میں یہ لفظ "المتمام" یا "المئمام" ہے۔
(2) إسناده واهٍ، ميناء متروك واتهمه أبو حاتم الرازي بالكذب، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "میناء" متروک ہے اور ابو حاتم رازی نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (317) عن عبد الرزاق، عن أبيه، عن ميناء مرسلًا، لم يذكر فيه عبد الرحمن بن عوف.
حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (317) میں عبدالرزاق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میناء سے مرسلاً روایت کیا ہے، جس میں عبد الرحمن بن عوف کا ذکر نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8687 سے ماخوذ ہے۔