المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَا تَكُونُ الْمَلَاحِمُ إِلَّا عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ آلِ هِرَقْلَ باب: بڑی جنگیں آلِ ہرقل (رومیوں) کے ایک شخص کے ہاتھوں ہوں گی
حدیث نمبر: 8639
أخبرنا أبو حفص أحمد بن أحيد (1) الفقيه ببُخارى، أخبرنا أبو هارون سهل بن شاذان، حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "خيرُ الناس في الفتن رجلٌ آخذٌ بعِنَان - أو قال: برَسَن - فرسِه خلف أعداء الله، يُخيفُهم ويُخيفونَه، أو رجلٌ معتزل في باديته يؤدِّي حق الله عليه" (2).
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8433 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتنوں کے دور میں لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اللہ کے دشمنوں کے تعاقب میں اپنے گھوڑے کی لگام — یا فرمایا: رسی — تھامے ہوئے ہو، وہ انہیں خوفزدہ کرتا ہو اور وہ اسے خوفزدہ کرتے ہوں، یا وہ شخص جو اپنی بادیہ نشینی میں گوشہ نشین ہو کر اللہ کا وہ حق ادا کر رہا ہو جو اس پر واجب ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أحمد بن حنبل، والتصويب من أسانيد المصنف في بضعة مواضع أخرى من هذا الكتاب.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "احمد بن حنبل" بن گیا، اس کی تصحیح مصنف کی اسی کتاب میں دیگر مقامات پر موجود اسانید سے کی گئی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، وقد سلف الكلام عليه برقم (8585).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)، اس پر کلام نمبر (8585) کے تحت گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "احمد بن حنبل" بن گیا، اس کی تصحیح مصنف کی اسی کتاب میں دیگر مقامات پر موجود اسانید سے کی گئی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، وقد سلف الكلام عليه برقم (8585).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)، اس پر کلام نمبر (8585) کے تحت گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8639 سے ماخوذ ہے۔