المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
التَّنَاكُحُ فِي الطُّرُقِ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَةِ باب: راستوں میں اعلانیہ بدکاری کا ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ يزيد بن أبي حَبِيب حدثه، عبد الرحمن بن شُمَاسةَ حدَّثه: أنه كان عند مسلمة بن مخلد وعنده عبد الله بن عمرو بن العاص، فقال عبد الله: لا تقوم الساعة إلا على شرار الخلق، هم شرٌّ من أهل الجاهلية، لا يَدْعُون الله بشيءٍ إِلَّا ردَّه عليهم. فبينما هم على ذلك أقبل عُقْبةُ بن عامر، فقال مَسلَمة: يا عقبةُ، اسمع ما يقول عبد الله، فقال عقبة: هو أعلم، أما أنا فسمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تزالُ عِصابةٌ من أمتي يقاتلون على أمر الله، قاهرين على العدو، لا يَضُرُّهم مَن خالَفَهم، حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك". فقال عبد الله: أجل، ثم يبعَثُ الله ريحًا ريحُها المسك، ومسُّها مسُّ الحرير، فلا تترك نفسًا في قلبه مثقال حبّةٍ من الإيمان إلَّا قَبَضَته، ثم يبقى شرار الناس عليهم تقوم الساعة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8409 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ مسلمہ بن مخلد کے پاس تھے کہ انہوں نے فرمایا: قیامت صرف بدترین مخلوق پر قائم ہوگی، وہ جاہلیت والوں سے بھی بدتر ہوں گے، وہ اللہ سے جس چیز کی بھی دعا کریں گے وہ ان پر رد کر دی جائے گی۔ وہ اسی گفتگو میں تھے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو مسلمہ نے کہا: اے عقبہ! سنئے عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں، عقبہ نے فرمایا: وہ زیادہ جانتے ہیں، البتہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قتال کرتی رہے گی، وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہوں گے، ان کی مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔“ تو عبداللہ نے فرمایا: ”ہاں (ایسا ہی ہے)، پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو مشک جیسی اور لمس ریشم جیسا ہوگا، وہ کسی ایسی جان کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا مگر اسے قبض کر لے گی، پھر صرف بدترین لوگ ہی باقی بچیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه مسلم (1924)، وابن حبان (6836) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1924) اور ابن حبان (6836) نے عبداللہ بن وہب سے دو مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا (یہ کہنا کہ یہ شیخین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے نہیں لی) ان کا "ذہول" (بھول چوک) ہے، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ (کیونکہ یہ مسلم میں موجود ہے)۔
وانظر لآخره في قصة الريح ما سلف قريبًا برقم (8613)، وما بعده.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کے آخری حصے (ہوا کے قصے) کے لیے وہ روایت دیکھیں جو ابھی قریب ہی نمبر (8613) اور اس کے بعد گزری ہے۔