حدیث نمبر: 8616
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام: وحدثنى أبي، عن قتادة، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَادٍ، عن عبد الله بن عمرو قال: من آخر أمر الكعبة أَنَّ الحَبَشَ يَغزُون البيت، فيتوجَّه المسلمون نحوهم، فيبعث الله عليهم ريحًا إثْرَها شرقيةً، فلا يدعُ الله عبدًا في قلبه مثقال ذرّةٍ من تُقًى إِلَّا قَبَضَته، حتى إذا فُرِّغوا من خيارِهم بقيَ عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروف ولا ينهون عن منكر، وعَمَدَ كلُّ حيٍّ إلى ما كان يعبدُ آباؤُهم من الأوثان فيَعبُده، حتى يتسافَدوا في الطرق كما تتسافدُ البهائم، فتقوم عليهم الساعةُ، فمن أنبأكَ عن شيء بعد هذا فلا علم له (1). صحيح الإسناد على شرطهما موقوفٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8410 - على شرط البخاري ومسلم موقوف
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: کعبہ کے آخری معاملے میں سے یہ ہے کہ حبشی بیت اللہ پر حملہ کریں گے، مسلمان ان کا رخ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر مشرقی سمت سے ایک ہوا بھیجے گا، اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کو نہیں چھوڑے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تقویٰ ہوگا مگر اس کی روح قبض کر لے گا، یہاں تک کہ جب وہ نیک لوگوں سے خالی ہو جائیں گے تو صرف اوباش لوگ باقی رہ جائیں گے جو نہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، اور ہر قبیلہ اپنے ان بتوں کی طرف لوٹ جائے گا جن کی ان کے آباؤ اجداد پوجا کرتے تھے اور ان کی عبادت کرنے لگے گا، یہاں تک کہ وہ راستوں میں اس طرح جفتی کریں گے جیسے چوپائے کرتے ہیں، پس انہی پر قیامت قائم ہوگی؛ لہٰذا جو شخص تمہیں اس کے بعد کی کسی چیز کی خبر دے تو اسے اس کا کوئی علم نہیں ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے مگر موقوف ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي» [ترقيم الرساله 8616] [ترقيم الشركة 8512] [ترقيم العلميه 8410]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ راوی "معاذ بن ہشام دستوائی" ہیں۔
ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف، وقد سلف نحوه عنده برقم (8613) من طريق عمران القطان عن قتادة عن عبد الرحمن بن آدم عن عبد الله بن عمرو، موقوفًا أيضًا، دون قصة الحبش في أوله.
فنی نکتہ / علّت: ہمیں یہ روایت اس سند (وجہ) کے ساتھ مصنف کے سوا کسی کے ہاں نہیں ملی، البتہ اس جیسی روایت مصنف کے ہاں ہی نمبر (8613) پر عمران القطان عن قتادہ عن عبدالرحمن بن آدم عن عبداللہ بن عمرو کے طریق سے "موقوفاً" (صحابی کے قول کے طور پر) گزر چکی ہے، لیکن اس کے شروع میں حبشہ کا قصہ نہیں تھا۔
ويشهد لقصة تخريب الحبشة للبيت حديث أبي هريرة مرفوعًا فيما سلف برقم (8601).
متابعات و شواہد: حبشیوں کے بیت اللہ کو ویران کرنے والے قصے کی تائید (شاہد) حضرت ابوہریرہ کی وہ مرفوع حدیث کرتی ہے جو پیچھے نمبر (8601) پر گزر چکی ہے۔
والعَجَاج من الناس: الغَوغاء والأراذل ومَن لا خير فيه، واحدهم عَجَاجة.
نوٹ / توضیح: (عربی لفظ) "العَجَاج" کا مطلب ہے: شور مچانے والے، کمینے اور وہ لوگ جن میں کوئی خیر نہ ہو، اس کا واحد "عَجَاجة" آتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8616 سے ماخوذ ہے۔