المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
تَكُونُ أَمْوَاتُ الْمُتَّقِينَ رِيحًا طَيِّبَةً عِنْدَ قُرْبِ السَّاعَةِ باب: قیامت کے قریب متقیوں کی موت کے وقت پاکیزہ ہوا چلے گی
حدیث نمبر: 8612
أخبرني إسماعيل بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز بن محمد وأبو عَلْقمة الفَرْوي قالا: حدثنا صفوان بن سُلَيم، عن عبد الله بن سلمان الأغرِّ، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله يَبْعَثُ ريحًا من اليمن أليَن من الحرير، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال حبة من إيمانِ إِلَّا قَبَضَته" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه! وله شاهدٌ موقوف على عبد الله بن عَمْرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8406 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ایسی ہوا بھیجے گا جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی، وہ کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا مگر اس کی روح قبض کر لے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عبد الله بن سلمان الأغر. أبو علقمة هو عبد الله بن محمد بن عبد الله بن أبي فروة المدني، وعبد العزيز بن محمد: هو الدراوردي.
درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن سلمان الاغر کی وجہ سے "حسن" ہے۔
تعیینِ رواۃ: ابو علقمہ سے مراد عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن ابی فروہ المدنی ہیں، اور عبد العزیز بن محمد سے مراد الدراوردی ہیں۔
وأخرجه مسلم (117) عن أحمد بن عبدة الضبي، عن عبد العزيز بن محمد وأبي علقمة الفروي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
تخریج و تنبیہ: اسے مسلم (117) نے احمد بن عبدہ الضبی عن عبد العزیز بن محمد اور ابو علقمہ الفروی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہذا حاکم کا اسے مستدرک (یعنی صحیحین سے رہ جانے والی احادیث) میں لانا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وفي الباب أيضًا عن عائشة، وقد سلف برقم (8586).
حوالہ: اس باب میں حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے جو نمبر (8586) پر گزر چکی ہے۔
وعن النواس بن سمعان ضمن حديث طويل سيأتي عند المصنف برقم (8718). وهما عند مسلم أيضًا، إلا أنه لم يذكر فيهما أنَّ هذه الريح من اليمن.
تفصیلِ روایت: یہ روایت حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں مروی ہے جو مصنف (امام حاکم) کے ہاں آگے نمبر (8718) پر آئے گی۔
حوالہ / مصدر: یہ دونوں روایتیں "صحیح مسلم" میں بھی موجود ہیں، مگر وہاں امام مسلم نے ان دونوں میں یہ ذکر نہیں کیا کہ "یہ ہوا یمن کی طرف سے چلے گی"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن سلمان الاغر کی وجہ سے "حسن" ہے۔
تعیینِ رواۃ: ابو علقمہ سے مراد عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن ابی فروہ المدنی ہیں، اور عبد العزیز بن محمد سے مراد الدراوردی ہیں۔
وأخرجه مسلم (117) عن أحمد بن عبدة الضبي، عن عبد العزيز بن محمد وأبي علقمة الفروي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
تخریج و تنبیہ: اسے مسلم (117) نے احمد بن عبدہ الضبی عن عبد العزیز بن محمد اور ابو علقمہ الفروی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہذا حاکم کا اسے مستدرک (یعنی صحیحین سے رہ جانے والی احادیث) میں لانا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وفي الباب أيضًا عن عائشة، وقد سلف برقم (8586).
حوالہ: اس باب میں حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے جو نمبر (8586) پر گزر چکی ہے۔
وعن النواس بن سمعان ضمن حديث طويل سيأتي عند المصنف برقم (8718). وهما عند مسلم أيضًا، إلا أنه لم يذكر فيهما أنَّ هذه الريح من اليمن.
تفصیلِ روایت: یہ روایت حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں مروی ہے جو مصنف (امام حاکم) کے ہاں آگے نمبر (8718) پر آئے گی۔
حوالہ / مصدر: یہ دونوں روایتیں "صحیح مسلم" میں بھی موجود ہیں، مگر وہاں امام مسلم نے ان دونوں میں یہ ذکر نہیں کیا کہ "یہ ہوا یمن کی طرف سے چلے گی"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8612 سے ماخوذ ہے۔