حدیث نمبر: 8600
أخبرنا الحسن بن محمد بن حليم (1) بن إبراهيم بن ميمون الصائغ، أخبرنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هبيرة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن نُعيم بن أبي هند، عن أبي حازم، عن الحسين بن خارجة قال: لما كانت الفتنةُ الأولى أشكَلَت علي فقلت: اللهم أرني أمرًا من أمر الحق أُمسك به، قال: فأُرِيتُ الدنيا والآخرة وبينهما حائط غيرُ طويل، وإذا أنا بجائزٍ فقلت: لو تشبَّثتُ بهذا الجائز، لعلِّي أهبِطُ إلى قتلى أشجع ليُخبروني، قال: فهَبَطتُ بأرضٍ ذاتِ شجر، وإذا بنفرٍ جلوسٍ فقلت: أنتم الشهداءُ؟ قالوا: لا، نحن الملائكةُ، قلت: فأين الشهداء؟ قالوا: تقدَّم إلى الدرجات العلى، إلى محمد ﷺ، فتقدَّمتُ، فإذا أنا بدرجةٍ الله أعلمُ ما هي في السَّعَةِ والحُسْن، فإذا أنا بمحمد ﷺ وإبراهيم ﷺ، وهو يقول لإبراهيم: استغفِرْ لأمتي، فقال له إبراهيم: إنك لا تدري ما أحدَثُوا بعدك، أراقُوا دماءهم، وقتلوا إمامهم، ألا فعلوا كما فعل خَلِيلي سعدٌ، قلت: أراني قد أُرِيتُ، أذهب إلى سعدٍ فأنظرُ مع من هو فأكون معه، فأتيتُه فقَصَصْتُ عليه الرؤيا، فما أكثر بها فرحًا، وقال: قد شَقِي من لم يكن له إبراهيم خليلًا، قلت: في أيِّ الطائفتين أنت؟ قال: لستُ مع واحدٍ منهما، قلت: فكيف تأمرني؟ قال: ألك ماشيةٌ؟ قلت: لا، قال: فاشتر ماشيةً واعتزل فيها حتى تَنجِلي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8394 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حسین بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب پہلا فتنہ برپا ہوا تو مجھ پر معاملہ مشتبہ ہو گیا، میں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے حق کا وہ راستہ دکھا دے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں، کہتے ہیں: پھر مجھے خواب میں دنیا اور آخرت دکھائی گئی جن کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی، میں ایک اونچی جگہ پر تھا، میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں سے نیچے اتروں تو شاید قبیلہ اشجع کے مقتولین سے مل سکوں اور وہ مجھے کچھ بتائیں، کہتے ہیں: میں ایک ایسی زمین پر اترا جہاں بہت سے درخت تھے اور وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے، میں نے پوچھا: کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم فرشتے ہیں، میں نے پوچھا: شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ آگے بلند درجات میں محمد ﷺ کے پاس ہیں، میں آگے بڑھا تو میں نے ایک درجہ دیکھا جس کی وسعت اور خوبصورتی اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں میں نے محمد ﷺ اور ابراہیم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ سیدنا ابراہیم ﷺ سے فرما رہے تھے: ”میری امت کے لیے مغفرت طلب کریں،“ تو ابراہیم ﷺ نے آپ سے عرض کیا: ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی چیزیں نکالیں، انہوں نے اپنا خون بہایا اور اپنے امام کو قتل کر دیا، انہوں نے ویسا کیوں نہ کیا جیسا میرے خلیل سعد (بن ابی وقاص) نے کیا؟“ میں نے (خواب میں) سوچا کہ مجھے راستہ دکھا دیا گیا ہے، میں سیدنا سعد کے پاس جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں تاکہ میں بھی انہی کے ساتھ ہو جاؤں، میں ان کے پاس آیا اور انہیں اپنا خواب سنایا تو وہ اس سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ”وہ شخص بدبخت ہے جس کا ابراہیم خلیل نہ ہوں۔“ میں نے پوچھا: آپ ان دونوں گروہوں میں سے کس کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی نہیں ہوں۔“ میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مویشی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے فرمایا: ”تو مویشی خرید لو اور ان میں گوشہ نشین ہو جاؤ یہاں تک کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8600
درجۂ حدیث محدثین: خبر محتمل للتحسين
تخریج حدیث «خبر محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن هبيرة ليس بالقوي» [ترقيم الرساله 8600] [ترقيم الشركة 8496] [ترقيم العلميه 8394]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
تصحیح: قلومی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے۔
(2) خبر محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن هبيرة ليس بالقوي - كما قال أبو حاتم الرازي - صاحب مناكير، لكنه لم ينفرد به عن عبد الوارث بن سعيد، فقد سلف برقم (6246) من طريق عمران بن موسى القزاز عن عبد الوارث
درجۂ حدیث: یہ خبر "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے، اگرچہ یہ سند ضعیف ہے۔
علّت: سعید بن ہبیرہ قوی راوی نہیں ہیں—جیسا کہ ابو حاتم رازی نے کہا—وہ منکر روایات لاتے ہیں۔ لیکن وہ یہاں عبد الوارث بن سعید سے روایت کرنے میں اکیلے نہیں ہیں، کیونکہ یہ حدیث پہلے (6246) عمران بن موسیٰ القزاز عن عبد الوارث کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8600 سے ماخوذ ہے۔