المستدرك على الصحيحين
كتاب تعبير الرؤيا— خوابوں کی تعبیروں کا بیان
رُؤْيَا عَائِشَةَ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِهَا باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ ان کی گود میں تین چاند گرے ہیں
حدیث نمبر: 8392
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب بن فُضيل التاجر المَحْبوبيُّ بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة الحافظ بتِرمِذَ، حَدَّثَنَا سهل بن إبراهيم الجاروديُّ، حَدَّثَنَا مَسعَدة بن اليَسَع، عن مالك بن أنس، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: رأيت في المنام كأنَّ ثلاثة أقمار سَقَطْن في حُجرتي، فقَصَصتُ رؤيايَ على أبي بكر، فلما دُفن النَّبِيّ ﷺ في بيتي، قال أبو بكر: هذا أَحدُ أقمارك، وهو خَيْرُها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8192 - صحيححافظ طلحہ بابر
عمرہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا گویا تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے ہیں، میں نے اپنا خواب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنایا، پھر جب نبی کریم ﷺ کو میرے گھر میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہارے ان چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہترین ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) الخبر صحيح كما سلف بيانه برقم (4448)، وهذا إسناد ضعيف جدًّا كسابقيه، ثم إنَّ مسعدة بن اليسع قد خالف رواية مالك المشهورة، حيث رواه يحيى الليثي عن مالك في "الموطأ" 1/ 232 فقال: عن يحيى بن سعيد عن عائشة مرسلًا. لم يذكر فيه عمرة، وقد سلف برقم (4448) من طريق سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: قالت عائشة.
درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے جیسا کہ نمبر (4448) میں بیان گزر چکا، لیکن یہ سند پچھلی سندوں کی طرح "سخت ضعیف" ہے۔ فنی نکتہ / علّت: پھر مسعدہ بن الیسع نے امام مالک کی مشہور روایت کی مخالفت کی ہے، کیونکہ یحییٰ اللیثی نے "الموطأ" (1/ 232) میں امام مالک سے روایت کرتے ہوئے: "عن یحییٰ بن سعید عن عائشہ" مرسلاً کہا ہے اور اس میں "عمرہ" کا ذکر نہیں کیا۔ یہ روایت نمبر (4448) پر سفیان بن عیینہ عن یحییٰ بن سعید عن سعید بن المسیب کے طریق سے گزر چکی ہے، کہا: عائشہ نے فرمایا...
درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے جیسا کہ نمبر (4448) میں بیان گزر چکا، لیکن یہ سند پچھلی سندوں کی طرح "سخت ضعیف" ہے۔ فنی نکتہ / علّت: پھر مسعدہ بن الیسع نے امام مالک کی مشہور روایت کی مخالفت کی ہے، کیونکہ یحییٰ اللیثی نے "الموطأ" (1/ 232) میں امام مالک سے روایت کرتے ہوئے: "عن یحییٰ بن سعید عن عائشہ" مرسلاً کہا ہے اور اس میں "عمرہ" کا ذکر نہیں کیا۔ یہ روایت نمبر (4448) پر سفیان بن عیینہ عن یحییٰ بن سعید عن سعید بن المسیب کے طریق سے گزر چکی ہے، کہا: عائشہ نے فرمایا...
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8392 سے ماخوذ ہے۔