مستدرکِ حاکم
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ باب: منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی ہے۔
فأخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الخازن، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا محمد بن خلَّاد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، حدثنا أبو إسحاق، عن عبد الله بن أبي بَصِير؛ قال شعبة: قال أبو إسحاق: قد سمعتُه منه ومن أبيه عن أُبيِّ قال: صلَّى رسول الله ﷺ الصبحَ، وذكر الحديث (3). وقد حَكَمَ أئمةُ الحديث: يحيى بنُ مَعِين وعليُّ بن المَدِيني ومحمدُ بن يحيى الذُّهْلي وغيرُهم لهذا الحديث بالصِّحة.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی (اور وہی واقعہ پیش آیا)۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ حدیث یحییٰ بن معین، علی بن مدینی اور محمد بن یحییٰ وغیرہ نے اس حدیث کی صحت کا حکم لگایا ہے۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بنَ مَعين يقول: حديث أبي إسحاق عن أبي بَصِير عن أُبيِّ بن كعب هذا يقوله زهيرُ بن معاوية، وشعبةُ يقول: عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي بَصِير وعن أبيه عن أُبيِّ بن كعب، فالقول قولُ شعبة، وهو أثبتُ من زهير. 2/
امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: ابو اسحاق کی یہ حدیث جو ابو بصیر کے واسطے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہے، اسے زہیر بن معاویہ اسی طرح بیان کرتے ہیں، جبکہ شعبہ کہتے ہیں: ابو اسحاق، عبد اللہ بن ابی بصیر سے اور ان کے والد سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے، چنانچہ (معتبر) بات شعبہ کی ہے، اور وہ زہیر سے زیادہ پختہ (اثبت) ہیں۔
أخبرنا الحسن بن محمد المِهْرجاني، حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني، في حديث أُبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ صلى الصبحَ فقال: "أشاهدٌ فلانٌ؟ ": رواه أبو إسحاق عن شيخ لم يسمع منه غيرَ هذا، وهو عبد الله بن أبي بَصِير، وقد قال شعبة عن أبي إسحاق: إنه سمع من أبيه ومنه، وقال أبو الأحوص عن أبي إسحاق: عن العَيْزار بن حُرَيث، وما أرى الحديثَ إِلّا صحيحًا. 3/
امام علی بن مدینی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے بارے میں، جس میں نبی کریم ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد پوچھا تھا: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» "کیا فلاں شخص حاضر ہے؟" فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند میں راویوں کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
سمعت أبا بكر بن إسحاق الفقيه يقول: سمعت إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي يقول: سمعت عليَّ بن المَدِيني يقول: قد سَمِعَ أبو إسحاق من عبد الله بن أبي بَصيِر ومن أبيه أبي بَصِير. 4/
امام علی بن مدینی کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کے مرکزی راوی ابو اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بصیر اور ان کے والد ابو بصیر دونوں سے براہِ راست سماع کیا ہے، لہذا سند میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق قال: سمعت عبد الله بن محمد المديني يقول: سمعت محمد بن يحيى يقول: روايةُ يحيى بن سعيد وخالد بن الحارث عن شعبة، وقولُ أبي الأحوص عن أبي إسحاق عن العَيْزار بن حُريث، كلُّها محفوظة. فقد ظَهَرَ بأقاويل أئمة الحديث صحةُ الحديث، وأما الشيخان فإنهما لم يُخرجاه لهذا الخلاف!
امام محمد بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تمام مختلف اسناد محفوظ اور درست ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ جلیل القدر ائمہ حدیث کے ان اقوال سے اس حدیث کی صحت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے، جبکہ شیخین نے اسے اپنی کتب میں صرف اس لیے جگہ نہیں دی کیونکہ اس کی سند کے بعض ناموں میں بظاہر اختلاف نظر آتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرجه ابن خزيمة (1477) عن بندار محمد بن بشار، عن يحيى بن سعيد - وقرن به محمد بن جعفر - به. إلّا أنه لم يذكر فيه قول شعبة عن أبي إسحاق.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے محمد بن ابی بکر المقدمی عن یحییٰ بن سعید کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ (1477) نے اسے یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر (غندر) کی سند سے روایت کیا ہے مگر اس میں شعبہ کا قول مذکور نہیں ہے۔