المستدرك على الصحيحين
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
رَدُّ الصَّدَقَةِ مِيرَاثًا باب: صدقہ کیے گئے مال کا میراث بن کر واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 8218
وحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن محمد وعبد الله ابني أبي بكر بن محمد بن حَزْم، عن أبي بكر بن حَزْم: أنَّ عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه جاء إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ حائطي هذا صدقةٌ، وهو الله ولرسوله، فجاء أبواه فقالا: يا رسولَ الله كان قِوامَ عَيشِنا، فردَّه رسولُ الله ﷺ عليهما، ثم ماتا فوَرِثَه ابنُهما بعدَهما (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين كذلك. وأصحُّ ما رُويَ في طرق هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8020 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ صدقہ ہے اور یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے وقف ہے، پھر ان کے والدین حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہی ہماری زندگی کا کل سہارا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے وہ باغ ان دونوں کو واپس کر دیا، پھر جب ان دونوں کا انتقال ہوا تو ان کا بیٹا ہی ان کا وارث بنا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن بطرقه كسابقه. وهو مكرر ما سلف برقم (5538).
درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے (دیگر) طرق کی بنا پر "حسن" ہے، جیسا کہ اس سے پچھلی حدیث تھی۔
نوٹ / توضیح: یہ نمبر (5538) پر گزرنے والی روایت کا تکرار ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے (دیگر) طرق کی بنا پر "حسن" ہے، جیسا کہ اس سے پچھلی حدیث تھی۔
نوٹ / توضیح: یہ نمبر (5538) پر گزرنے والی روایت کا تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8218 سے ماخوذ ہے۔