المستدرك على الصحيحين
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
الْكَلَالَةُ مَنْ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا باب: کلالہ وہ ہے جس کا نہ کوئی بچہ (وارث) ہو اور نہ والد
حدیث نمبر: 8164
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ عمر بن الخطاب أَوصَى عند الموت، فقال: الكَلالةُ ما قلتُ، قال ابن عباس: وما قلتَ؟ قال: قال: مَن لا ولدَ له (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو في الأصل مُسنَد، فإنَّ في خطبته: وما راجعتُ رسولَ الله ﷺ في شيء ما راجعتُه فيه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7965 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت وصیت فرمائی اور کہا: کلالہ کے بارے میں وہی قول ہے جو میں نے کہا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: آپ نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”جس کی کوئی اولاد نہ ہو (وہ کلالہ ہے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اصل میں مسند ہے کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا تھا کہ میں نے کسی معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے اتنی بار رجوع نہیں کیا جتنا کلالہ کے معاملے میں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وهو في "مصنف عبد الرزاق" (19187). وسلف برقم (3226).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (19187) میں موجود ہے اور پیچھے نمبر (3226) پر گزر چکا ہے۔
(2) انظر خطبة عمر ﵁ هذه في "صحيح مسلم" (567) و (1617).
حوالہ / مصدر: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ "صحیح مسلم" (567) اور (1617) میں ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (19187) میں موجود ہے اور پیچھے نمبر (3226) پر گزر چکا ہے۔
(2) انظر خطبة عمر ﵁ هذه في "صحيح مسلم" (567) و (1617).
حوالہ / مصدر: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ "صحیح مسلم" (567) اور (1617) میں ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8164 سے ماخوذ ہے۔