المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
خَصَائِلُ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ باب: اللہ کے ولیوں کی خصلتوں کا تذکرہ
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني عيَّاش بن عبّاس، عن عيسى بن عبد الرحمن، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أن عمر بن الخطّاب خرج إلى مسجد رسول الله ﷺ فإذا هو بمُعاذِ بن جبَل عند قبرِ رسولِ الله ﷺ يبكي، فقال: ما يُبكِيك يا معاذُ؟ قال: يُبكِيني شيءٌ سمعته من صاحبِ هذا القبر، قال: وما سمعتَه؟ قال: سمعتهُ يقول: "إنَّ اليسيرَ من الرِّياء شِركٌ، وإِنَّ مَن عادَى وَليَّ الله فقد بارَزَ الله تعالى بالمُحارَبة، وإنَّ الله يحبُّ الأخفياءَ الأتقياءَ الذين إن غابوا لم يُفتَقَدوا، وإن حَضَرُوا لم يُدْعَوا ولم يُعرَفوا، قلوبُهم مصابيحُ الهُدَى، يَخرُجون من كلَّ غَبراءَ مُظلِمة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7933 - صحيحسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی طرف نکلے تو دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، آپ نے پوچھا: اے معاذ! تمہیں کس چیز نے رلایا؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے اس بات نے رلایا جو میں نے اس قبر والے (یعنی رسول اللہ ﷺ) سے سنی تھی، پوچھا: تم نے کیا سنا تھا؟ عرض کیا: میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”تھوڑا سا دکھاوا (ریا کاری) بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے اعلانیہ جنگ کی، اور بے شک اللہ ان گمنام پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے جو اگر غائب ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر حاضر ہوں تو انہیں (مجلس میں) بلایا نہیں جاتا اور نہ ہی انہیں پہچانا جاتا ہے، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر تاریک اور گرد آلود فتنے سے (بسلامت) نکل جاتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ حدیث اپنے طرق اور شواہد کی بنا پر "حسن" ہے، جبکہ یہ سند عیسیٰ بن عبد الرحمٰن کی وجہ سے بالکل ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ عیسیٰ بن فروہ الزُّرَقی ہے، اور اس پر کلام پیچھے نمبر (4) پر گزر چکا ہے۔