المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
الْأَمْرُ بِالِاطْمِئْنَانِ وَاعْتِدَالِ الْأَرْكَانِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں اطمینان کے ساتھ ٹھہرنے اور تمام ارکان کو درست ادا کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 802
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني قال: قُرِئَ على ابن وهب: أخبرك داودُ بن قيس. وأخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا داود بن قيس، حدثنا علي بن يحيى بن خلَّاد، حدثني أَبي، عن عمِّه - وكان بدريًّا - قال: كنتُ مع رسول الله ﷺ جالسًا في المسجد، فدخل رجلٌ فصلَّى ركعتين، ثم جاء فسلَّم، وذكر الحديث بطوله (1). وأما حديث محمد بن إسحاق بن يَسَار:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ (جو کہ ایک بدری صحابی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص داخل ہوا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آ کر سلام کیا (اور پھر وہی طویل واقعہ پیش آیا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري وعبدان: هو عبد الله بن عثمان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: "ابو الموجہ" سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں اور "عبدان" سے مراد عبداللہ بن عثمان (المروزی) ہیں۔
وأخرجه النسائي (1238) عن سويد بن نصر، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (1238) میں سوید بن نصر عن عبداللہ بن المبارک کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: "ابو الموجہ" سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں اور "عبدان" سے مراد عبداللہ بن عثمان (المروزی) ہیں۔
وأخرجه النسائي (1238) عن سويد بن نصر، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (1238) میں سوید بن نصر عن عبداللہ بن المبارک کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 802 سے ماخوذ ہے۔