حدیث نمبر: 7977
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم، عن محمد بن ثابت بن شُرَحْبيل القُرشي، فذكر الحديث (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی سابقہ حدیث کی ہی ایک اور سند سے توثیق ہے جس کے راوی امام ابویوسف (قاضی) ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7977
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره ك
تخریج حدیث «حسن لغيره كسابقه» [ترقيم الرساله 7977]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حسن لغيره كسابقه.
درجۂ حدیث: اپنی سابقہ روایت کی طرح یہ بھی حسن لغیرہ ہے۔
وأخرجه ابن حبان (5597)، والبيهقي في "السنن" 7/ 309، وفي "شعب الإيمان" (7379) من طريق يحيى بن معين، والبيهقي في "الشعب" (7379) من طريق يعقوب بن سفيان الفسوي، كلاهما عن عمرو بن الربيع بن طارق، بهذا الإسناد. وجاء اسم والد عبد الله عندهم: سويد. قال البيهقي في "الشعب" عقبه وعبد الله هذا إن كان الخطمي فاسم أبيه يزيد، ولكن كان في كتابي: ابن سويد عنهما جميعًا. قلنا: لكنه وقع في "سننه": ابن يزيد، على الجادّة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5597) اور بیہقی (السنن 7/ 309 اور شعب الایمان 7379) نے یحییٰ بن معین اور یعقوب بن سفیان فسوی کے طریق سے عمرو بن ربیع بن طارق کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان کے ہاں عبد اللہ کے والد کا نام "سوید" مذکور ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اگر یہ خطمی ہیں تو والد کا نام یزید ہونا چاہیے، لیکن میرے نسخے میں "ابن سوید" ہی تھا۔ تاہم سننِ بیہقی میں یہ نام "ابن یزید" کے طور پر ہی معروف طریقے سے درج ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7977 سے ماخوذ ہے۔